کاب داقعات سرت ال طٌْ ازحافظ غادم تم رضوی ازخو اج عبد الیم اح فانضل عرپی۔ر یس رجا کالر ٹیچ لک دداحادیت پر ایک علی م اکم

از خ اج کپز ١‏ میم ا٠ء‏ فا ضل عربی۔ر یمر ثّا۔کالر

یب ٤ۂت۱٢ےءے‏ ے تی بمممفو ۔ ض صے ےے ے لے کے ے٤٤‏ ےھ ب_ ےءےۂ ےت تب یٹ ٹیم ٔک‌ےرے ے ے ص۱ًمےےے ےے ے ےت ے متںدے _ ے ے ے ے ے ‏ ے >> کے ےک ء ےے ےے ےک م+.ععے ۰ ے ے ے ے ‏ ےے ےے ے ےک ےے کے کے ے ‏ صےےے ےےےے ‏ ےے ےے ےے کے ے ے ےےے ےک کک ک ےک ےے ےے تک کے ے ےےےء ے یےےےکع.۔ح ےیےءءےےک تیے کک کصےےی ےة ے ‏ ے ےم >ےےےےےے بک ے ‏ کے ےءةے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

مور مہ

ھی علتوں میں جز با ٹک کی ایت سے ا بات کے تع نظ ایک والم ہمیشہ ھی مق م ہکو عم کی میک سے دبا پن کم تاہے۔ اکر ایک تار ہی ردایت بیا نکی ہے نو

میں چند پاتو ںکو وبا رکٹا پڑتاہےء مجن ئیں۔ اس مار منی روای تکاکیا لی منظ تھا اکیادورواییت کسی مستقد ذدیعہ سے ۴ مکک کپ ؟ اس ردایت کے بین از نواس ف نکئن

۳ک سن یں تھا ؟کیاددروایت مز اج نی مل سک مآ ہگ ے ؟ اکیادوروایت مم روایت کے اصولوں کے ساتھھ ساتح عم درایت کے اصوول پر ہو رااترلٰ سے ؟ اور

اگر مواملہ حضرت ر سو لکریم ڑم سے متتعلق ہو فو اس صصورت میں ذاو ربھی اعقاماء بصیرت اورکائل قوج ہکی ض رورت سے ۔کیوکلہ 1 حضرت ماف کے سا مسلمانو ںکا

ایک تی تعلق ہے۔بہ ای تھی ہے جہاں انسان اپنے محیو بک پر بات اد ہر اداکو 1مھمیں بن کر کے مان لی اہے_ اس لے آ تحضرت ما سے متخ کو یبھی بات بغیر

ایا او رکال علم کے نی سکی جانی چایے۔ علا کم ام نے اس جو الہ سے ابیک مفیم الشان خد مت اسلا مکی۔ حدبی کی صحم تکو پ دھنے کے لے عکم روایت: علم اسماء ال الہ علم

جرح وتعد پل و یرہ مع رش وجود یس آئے۔ ا یکی طرف اشار ہکرت ہوے امام مج بن سی بین( توق 110ھ نے ایک با دکباء

"لم یکونوا رضی الله عنھم یسالون عن السناد فلما وقعت الفتنة قالوا :سموا لنا رجالکم فینظر الٰ امل السنة فیؤخذ حدیٹھم و ینظر الیٰ امل البدع فلا یؤخذ عنھم۔"'

ینی صحابہ رضوان ایہم این نے ٹبھی ہیں می کسی روای کی اسنادسے متعلق سوول نیو ںکیا مر جب (عھی وگ ری) تو ں کا آنماز ہو ان ھکہاجا انتا ءکہ اس روایت کے

راو یکا نام تا کہ سنت بوکی لم پر عال راوگی سے روایتکااغہکیاجائۓ اور ال بد عت راو کی ردای کون کر دیاچاۓ-

عم حریث میں اس طر کی پچھان ین ککو الام جو زی (التونی 597ھ) نے ایک اور زادیہ سے دیکھاء آپ فرماتے ہیں۔

''و ما لم یمکن احد ان یدخل فی القرآن شیئاً لیس منە اخذ اقوام یزیدون فی حدیث رسول الله قَي و ینقصون و یبدلون و یضعون عليه ما لم

یقلء فانشا الله عز وجل علماء یذبون عن النقل ء و یوضحون الصحیح و یفضحون القبیح و ما یخلی الله منھم عصراً من العصور غیر ان ہٰذا

النسل قل ق ھٰذا الزمان ۔"٭

اور ہہ با کسی کے لے کن نہ ش کہ وہ ق رآ نکر مم میس یھ (زاپنی طرف سے )داخ لکرجافولوگوں نے حدیت تیدی خی سی بیشٹیء تبد بی اور اعادی ٹھٹرناشر وع

کیا۔ سو ال عزد یج لی نے اض علا پیراگئ جنپوں نے اعادیر کو لف لکرناشج رو خکیاہا نکی ححن تکودام جکباادد م عکنزت ددایا تکا بج ائیاں ظاہ رکیں۔ ایر نے ا ےے علا سے

کوبہ زمان بھی ای غیں رک ام 1تل الیے لو کم ہو گے ہہیں۔

اعادی کی موا تکتب جن می بارگی وممسلم اس کنب بح دکتاب ایشدمانی جا یں ءان کے علاد ءکتب ادبعہ ءال طالاام اگج ان خی ؛ جج این تبان ءال تد رک لاکمء

ابو یی اید داود طیا یہ عبد ال رزاقی اور این شی کی انید وغی رہ علھی علتوں می ایک متاز متقام وم رحب رمصتی ہیں۔ مر الع کے بح کے طیقا تکی روابی تکر د کنب میں پھر

لف فض مکی وج ہک بناہ پر ا نکو پیل ص فک کب میس شال خی سکیا جاا۔اس میں اھ کک خی کہ عدی ٹک قریبآہ رکناب مس یر سج احادیث بھی روابی ٹک یگئیں

ہیں۔ موجودہ دور کے البانوی عالم ٹن ناصر الدین نے ٹ وکتب اربعہ میں سے تح لکی یف الاسناد اعادی یک اکر کے منتف لکن کی صورت میں تی رکیں۔ جس طرح

احادیث یل سے ' ح'' اعادی کک اقسام یں وی ہی ' یف ' اعادی کی کھ یکن اقسام ہیں۔

"مینزان الا عتہ ال لد اول صفیہ 39438 دا راکپ العلیی بروت۔ لبتانی- 1995 شکتاب الم وضوحات_ جلد اول صفمہ 31_ الناشر مر عبر ا ۴ل _صاحب الکتیہا سای پالم رین اٰتور1966_5

2

کے ٤‏ تح/ۃ٤‏ ےت لم ۃۂۃے ‏ صس ٤‏ تح ء_ے ے ے ‏ ے کے >کے سے ے ب٤‏ بے ےے ے ے ‏ تحص ےے ٤ے‏ ےک کے ے ے ت ے ‏ ےم ےے ت ے ےےے ے ے ے ےے ‏ ےے کے ےےےک ‏ ےےے کے ےے تک ےےے ےے بے ےےےےے ے ے مےے ‏ ےے ے کے ےے ےک ہے ےک ےے ےک ےے ٤‏ ےک ےتک ےےے ےک ے ے ے ے کے ےے ےے ف _ ےے ےکےے ے کے ک>کےےصمےے ‏ ےےےے,ءےۂکۂءکءےےے تک ےے_ےےء ے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس شی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

امام حافظ ذ رییانے اس ذیگی ٹل ایک نہات میق بات گھ ہے ءآپ فراتے ہیں:۔ ''ئم ان الحدیث الضعیف قد ورد عن النی قَِْ لکن بسند ضعیف : فالحدیث یقوی نورہ بصحة سندہ و یضعف نورہ بضعف سندہ ۔” نی اگ رکوئی حریٹ مضیف تد کے ساتھ آتحضرت مأاا سے ردایی تک جاۓ ا سکامطل بکہ ا لک مکھزورسند اس روایت کے فو رک وھ یک مکررخی ہ گی اود اگر روابہت مقبویاسندی ہکھٹری سے نووہ اس حدی کی روشم کو مہو کر رہی ہ وگا_ علماء ٹیش ہہ بث کل خزارع ری ہ ےک ضیف الاسناد احادی ٹک وکس حدکک انا جاسکتا ہے _ لعحض ا سک وعمل طور پر ستزدکرتے ہہیںہ چناغجہ علامہ زاعدالکوڈڑی اپنے مقالات یں کلماة حول الاحادیث الضعیفة کے عنو ان کے شت رات ہیںء 'والمنع من الاخذ بالضعیف علی الاطلاق مذھب البخاری و مسلم و ابن العریں. کبیر المالکیة ق عصرہ و ابی شامة المقدمی کبیر الشافعیة ق زمنه وابن حزم الظامری . والشوکانی و لھم بیان قوی فی ا مسئلة لا یھمل۔'٭ وف [ما زی یک کسی عصورت میں وی دک راخ ریت امام ار ء مسلم اور این عر یکا ملک ہے۔امام مالک ابو امہ عبد ال ر می قد یہ مام شاف ء امام ظاہری اور لام شوکا یکا بھی اس مسلہ میں وا موقف ے۔

گ رض علا رکا خیالی ےکہ منا قب ٹیس تضحیف حریث تقائل قبول ہے البتہ اعمال دعقائند یل غھیں۔ جی اک امام ز دی ایی تاب ''الئکلت علی ممقد مت ابن صلاح '' می سککعت ہیں_ "أآن الضعیف لایحتج بە فی العقائد والحکامء ویجوز روایته والعمل بە فی غیر ذلكء کالقصص وفضائل الُعمال٠‏ والترغیب والترھیبء ونقل ذلك عن ابن مہدي وأحمد بن حتبلء وروی البہقي فی المدخل عن عبد الرحمن ابن مہدي أنە قال : "' إذا رونا عن النبي صلی الله عليه و سلم فی الحلال والحرام والتأحکام شددنا فی اللسانیدء وانتقدنا فی الرجالء وإذا روپنا فی فضائل الأُعمال والثواب والعقاب سہلنا فی السانیدء وتسامحنا نی الینال* اس خخپال کے حال علام یں اس نظری کے جاین ین سے سفیان ٹوریء مثیان بن یدن ؛ اید زکریا عنب رگیء عیز ال حن بن عپ گی حافظط این عیز ارہ حافظ ابن ااصلا وخیرہ ہیں گر سوالل یہ پیر اہو تا ےک کون کی یف اعادیٹ منا قب میں تقائل قول ہو ںگ ؟ ان سکاج اب ہم ایک تی عالم مو ناعبد اح ککھنوبی سے لیے ہیں۔ 'موضو روایت کے بر غلاف مضعیف ریت اگر ادکام سے متحلق نہ ہو نے اس میں تما ح۹ لکیاجا ا ہے اور شر ائیا کے ساتھ ا کو تو لیکیا جانا ہے۔۔۔ فضائل اعمال میس ضیف 0 پ00 ال حدیث علءت یٹ ضح فکوغی رش روط طور پر مقابل مل نی بت خ او معاملہ من ق بکاہو یاااس کے علادد۔ ائل سشت جی علاء اس پر مش روط طو ری رعمل کے تائل ہیں مکیاشرائیاڈیںء جن کے تحت ضیف روایات منا قب کے جاب میں تقائل قول ہو ںگیا۔ ا کا جو اب بہ ‏ ےککہ علاء چھ اس کے جو اف کے ماک یں سکئے ٹیک دہ حدیث زیادہ ضیف نہ ہو موضوخ نہ ہو عام خطابت شدہ تفیقت یا داقعات شابنتہ کے خلاف نہ و۔ اس عدیث پہ ا ئما کا دارومھد ار نہ ہو۔یہ عدیث (تیف) انما نکو متخ بکامو ںکی

مزان الاعتہ ال جلد اول صفہ 32 دار اکپ العلیی بر وت لبنان 1995

الا تکوشڑیی صفہ 59 ا؛کککتبۃ التوفیقیں القاع ر3 مر

النکت می مقدمیۃائن صلاحع۔ جلد دوم۔ صخیہ 308 اضواء السلف۔ ال یا۔ 1998 اآخار ا رفوع:۔ صف 142۴139 دار اککتب العلبی۔ بر دت۔لتاای-1984

سی سی سی سی سی سی سس سس سس سس سس سس خر شض رش شک رش رر کے ہے

13 31 :.31 13 31 5 5 3 5 :.3 58 ۹ 31 58 3 31 58 58

کی سس کپ کپ سی سی کپ کپ سی سی کس کی کس سی سی سس کس سس شش شش ٹر ٹر شش ٹر شش شر شر نر رر شش رش رر رر ش رر نر نر بن سر

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

مر ار ون اق دزن کے ضل تح می ترجہ .ادا تا ےک اکن سا تس کا رکا کو تل تل ضیف خی فکزناخا لعل حتف یت تال کک کہ ول نف یا یآررے۔ مندرجہ پالا بث اس لے ضروری شیک علامہ خام بین رضوکی کے ختین ىہ با تک کے ہی کہ مولاناکی یا نکر دوردایات از قیل من قب ہیں فو ىہ بیا نمرنے ےکوئی ڈرقی نیس پڑتا۔-۔ جارا مق مہ ری ےکہ الن ددایات کے بیان سے بہت گہرا فی اش یڑج ج سک یتفصسیل نود ودکی جا ۓگی۔ ول النو ا لی یم ء لق اکس اکمبرکی ءالشذا اد رکناب النغازی اور ای طر نکی نس او رکتب سرت علام ہکی بیا نکر دوداقعات سرت اکٹ ابو[ مکی و ال الو اور علی الاولیاءء ام سید ش کی الفص انس واقد کی الغازیء قاضی عیائ ض کی الشفا اور تار سط ری و خی ردے ماخوز ہیں۔ مناسب معلوم ہو تا ےک ہا الن ردایات پر علامکا موی ملک بیا نکیا جاۓ نجس سے بی دامع ہ ھک ال سنت ک ےکبار علاہ ہر مکی تضتیف, موضو اور مر حدری کو مال استنادواستشماد نہیں کن جے_ و اتل الو اور حافظ الو تم سہال(اتل ددو۔) کی بیا نگ دەردایات

٭ ابو ٹیم (صاح بکتاب د لال الف" ۃ) کی جلالت صلی فو سب کے سان ھکار ہے ما م محر ین نے ا نکی لت بن ںکو سی رگی سے لیاہے۔حافظ ذببی جچوملم اسم

ال جال کے بہت بڑے عالم ہیں ان کے بارہ میس ایق کاب تن کر ا لحفاظہ می ل کھت ہیں ءکہ ابو شی مک یکئی ایک ممشو رکب ہیں جن میں محر وہ ااصحاہء و لال التوۃ مرج علی افاری و غی رہ ہی گر ان میں سض میں آپ ن ےکی ضعیف, مردود اور موضوںع روایات بھی ششام لکر دی اور ان پ لم غنیں اٹھایا 7

٭ ایباتی تر خیب وت ہیب کے ہاب ٹیل کور اعادیث کے جو اللہ سے امام این تی کھت ہیں۔ ''مقصود پہ بتانا ‏ ےکلہ الس باب می جو احادیث روای تک اگئی ہیں وو ان اعادییث یل سے ہیں جو خریب اور منگر بللہ وضو ہیں ا نکو ای لوگوں نے مم کیا ےکو فض اتل و مناائب یی کر یکو لی سب روآیات ددی کر یت نہیں...۔ این ال اور الو نتم کے تی ےج شک ایال سے زیت لف یکرت ان روایا تکو نف لکیاہے۔ اس طر حک کب حدیث یل اکر مو ضوع روایات پائی جا ہیں_"

٠‏ امام ذ بپی او یم اضہہال کی ہیا نکر دوردابات کے حوالہ سے این مند و اود او نیم کے بابھی تھاز کی ذیل ٹس تیر فرمات ہیں۔

لا قبل قول منھما فی الآخر ء و ما عندی مقبولان لا اعلم زنباً اکبر من روایتھما ا ملوضوعات ساکتین عکیھا۔”

سن ا یی یف ے ےک فلاف تی مان تین انار سے مک دوک ول علاء ہیں بے ان دونو ںکاگناہ اس سے بڈہ کر او رکوئی معلوم نی کہ وہ موضور روایا تکمرتے ہیں اور الع کے پارہ میس نما مو شی اغخقیا رککرتے ہیں ! ان علء مر شی نکی مناکیبرو مو ضوعات پر خا مو یکا ایک دج امام ابن تجبیہنے با نکی ہے دہ اس غامو ش یکو حسن خ نکی لگا و سے د یھت ہیں٠‏ فرماتے ہیں ء "ابو الخ اصبہانی نے فضائل اعمال کے متا بہت کی احادیوث بی نکی ہیں ان ٹس بہت کی اعادیٹ توئیء سج اور صن ہیں او رکش رقعد امیس ضیف موضو اور بے اد "۹ٰ۶ "۹ءء" اث دی روابی تک دہ احادیث روایی تک دگا ڈیں۔ اہول نے ابق تصائیف مل ایق عادت کے مطا لق ہر مر نکی اعادیث رواب تکر دی بڈیں کہ اب علم ان لی کہ اس باب یل جھ جح ردایات در ہو ٹی یں س بکی سب قائل مجت خییں_ ۱9۷

نکر الذاظء جار سوم۔ صفہ 1097 داراککتپ العلبید بیروت۔ لبنان- شاب الوسیلۃ(مت جم ) ازامین تیہ۔ صفح 732 - -شا لح دداسلائی اکیڑ ی٠‏ فُلمارکیٹ,اردوپاژار_لاہور- زان الاعترال جلد اول سخ 38 دار اکب العکییب ردت لبتان 1995

تر ٹر رر رر رر رر رم شر رش رر ضر رخ رر رر کر رر رر رر کر رر رر رک رر رک کر رر کر رر رک رر رر رر رک کت

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

تمرح وت ےکی وا ار خی کہ دلامل النوۃ یس منا تق بک ذ یل یس الو یم ویر ہکی بیا نکر دوروایات اکر ضیف مناکیبر وم وضو ردوایات بی ہیں- مولا نا عبد الام آزاد ای قضیہ شی بیا نکمرتے ہیں- ''حافظ ذ ٗی کے نزدیک ہہ فلت( موضوعات و مزاکی ر روایم تگرنا) ان و نیم انی وغی )کی مقبولیت میں غکل اند از نہیں لیکن اغسو سک ای خط ناک متبولیت نے ان موضوعات وجکایا کو قوم می بپھیلادیا ج نکی وجہ سے آخ اسلا مکو شر مندہاخیار اور ہرف طونہ مالین وا اب بننا ڑج ے_ 11۷ ال انس اکبری اور امام سی شی (النتوثیٰ 911ھ) کی بیا نگ دەروایات اس میس پلنھ کیک نی سک ایام سید تی نے اق اہ سکاب کے متتلق فرمایاتھاکیہم ہکتاب موضسوعات سے پاک ہے ء اسیا نیا بات آپ نے اق کتاب جائع الصغیر کے حو الہ سے بھی کی تی کم سوال بی پید اہو تا ےک ہکیاائن دوکتب یل حیف روایاتء مناکیر اور موضو ات شال یل ؟ ٭ مگ ر اور ہافل ردایات کے ٭ الدے ۵2 تاب میں(دوردایات در خکر نے کے بعد الن پر تھ ر کرت ہو ۓ )نکھت ہیں ء "'هٰذا الاثر والٹران قبله فیھا نکارۃ شدیدة و لن اورد ‏ کتاہی مٰذا اشد نکارۃ منھاء و لن تکن نفمی لتطیب بایرادما لکی تبعت الحافظ ابا نعیم ق - اس اٹل اور ال ےا ٹل د وآخار مل دید ارت پل جانٗے۔ مر یا ال کاب یل اس سے زیادہ منگرروابی تکوکی یں گر یں نے باول نم استہ ا نکو تحری کیا تصرف اوھ مکی اتا عگی۔! ٠‏ الوائحسن مر بن می اکا (ترن 63دے) ا سکاب ٹل در ردایات کے ہو الہ ےکھت بڑیں- اق السا الکری احائرٹ ہا خلت عل مصبلق کیل لاق فالسموع آخل رطق القسائس اکری جرد اورختپالئ سکہرییا یس داع اور مو شوخ ردایات یں شن می مۓ لفتض ”ذیل اللان اص نوع شس مکورہیں۔ سید یز الڈرے دا تج طوریرخائٹ کہرکیا یس ایق ش رطلاکہ ا سکاب می موضو روایات ٹیٹس جو لگ کی خلاف ورڑ کی ے۔- الغازی اور علامہ داق یک بیا نک دەردایات ٭ علامہ شس اللد ین ذ بی ین عم رالد اق دکی کے پارہ یں ت کر ؟احفاظاش ھت ہی ںکہ علاءیس انفاقی ‏ ےکہ ا نکی مردیا تکوتر کک دیاجاے_ “۱ ٭ ‏ علامہ شس الل تاذ بی نے میز ان الاعظر ال میں ان سے متتحل قکبار محر تی نکی آرا ءکو جح اہ فرمات ٹیںء اام اج بن مب ل کے ہی کہ داقد یک اب ہے۔ اعادی ٹک تقلیب کیاکم تاتھا۔ ھ کے ہی کہ ان یل حدبی ٹک کات کے حو اللہ تےکھدرگی تھی۔ امام بارکی اور او حاتم کے نزدیک مہ مطروک ہیں زسائی کت ہی ںکہ ىہ اعادی ٹگھٹاکرتے تھے دار تن کے نزو یک ھی مہ تجیف را دک ہیں۔ این جو زی ان تن ٹیش کا الزام لگات ہیں۔ '' ٦‏

131

أ کاب الوسسیۃ( مت مم) ازاین جی.۔ صفحہ 226 شائ کر دہ اسلائیاکیئی؛فضل ما رکیٹءاردوبازار۔لاہور- ول رت تو مم ازمولاناابوالقلام آزاد۔ صفحہ 92091 ۔ککتبہ مال تن ما رکیٹ۔ اردوپازار۔ لا ور-2012 2 لن کس اککبریٰ _ جلد 1 فی 83 دار اککتب العل یت یرت

ڈ اع الشریبتہ ال رفعۃ عن الا ہار الشنیب: امو ضوعۃ۔ جلد 1 صفہ 326 دراککتب العهیتد بردت۔ لنان۔ 1981 دک را لحفاظء جلد ال صفہ 348 داراککتب النلبیتد بی روت۔ لنااں-

شا میران ا عتررل جل رضشم صفیہ 273 داراککتب العطیی بروت_ لبتان- 1995

ے صے ‏ ے ےےے ےک تک ذے ے ےےےے>صکےے ے ےےے صےت٠٥ۂف‫٤ ‏ ےًےے مےے ے ےے ے ےےتمءصء ‏ رر ے ےت ص ے ‏ ے صے ےت ت ےے ت ہے ض 6 6 6 ییییییمکیمیےے ے ےے ےے ے ‏ ے سے مت ٤‏ ے ‏ ۲ے مےے ےے کے ے ےےے ے ے ےےے تک سے ہےے ےک ے کے بے ے_ میءے ےک ےب تک ےک سس ۃ_ےرےءےےے 0٤ےے‏ ےے ےے کے ہے مت ٥٠ت‏ یمک ےحت ےک ےصکمے ے.صےںکرءیے ےک کے ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

الشذااوراس میں عقاضی عیاش مکگی(التونی 544ھ )کبیا نک دہروایات

٭ عافظ ذئی کے نزدیک مقاضی عیا شک ا سکاب پر دوسحم کے اعتزاضات ہیں٠‏ ایک یہک مو ضوع اور بے ہفیاد بات ںکوحریث ناکر شن یکیاگیااور تاو لات بمیدہ

ےکا مم لیاگی۔؟'

٭ عامہ مھ بن جمف رالکنانی اب کاب ''الرسالۃافمتطروی"" بیس ا سکاب کے تارف می کھت ہیںء

کتاب الشفا بالتعریف بحقوق الملصطفیٰ لاہی الفضل (عیاض) بن مومیٰ۔۔۔فيه احادیث ضعیفة و اخریٰ قیل فیھا اتھا موضوعة۔'' اور ابو لفحضل عاض بن موک یک کاب الغفا بالتریف بحقوت ١‏ فی ء اس می یف احادیٹ یں ادد بای ردایات کے پارہ نل ہاجاتا ےک دہ مو ضو رم روایات ژیں-

٭ علامہ مقرکی تلمسانی ا ںکما بک ردایات کے بارہ می کھت ہیں٠‏

"حقیٰ ان فی شفاء عیاض احادیث لم یعرفھا کثیر من ا محدثین

ہام ککہ قاضی عیاخ فک ی کاب شفائی لکئی ایک لی احادیث ہیں مج نک وک تع اد مد شی نکی جا نت کک نیں_ ا نکت بک ردایات پر محد شن کے اقوال بیا نر نے کے بعد ہم پچ رعیف حدریث کے حو الہ سے ابی بٹ مارک رک ہیں۔ موضوع روایی کی مقبولیت اتی ہوک یک ینض علاء ے بیہا تک مووقف اپناکہ اگ رکسی حدی ٹکا موق درست ہو اس کے الفا طکوموضو ما نکر اس عم لکیاجاسکنا سے ۔کی وکلہ موضو الفاظ ہیں ن کہ نس مقمون_

18,

بہرحال بت علاء نے ضیف حدی ٹکو موضوع حدیث قرار دیاے بش ر یل اس کے رواۃ می کوک یکف اب رای ہو۔ جن داقعات پاردایا تکاسہارامولاناخادم ین رضوى صاحب ابق تقاریر وخطابات جس لیت رے ان ہیں سے تض موضوع ہیں ,یش مر اور کٹ میں لت اڑىی لح فک وو موضوع کے عم میں بوج ہک اب روا داخل ڈیں۔ ال حو اللہ ےکہ ضیف ردایت مو ضوع بن جائی سے حور شی نکھت ہیںء

٭١‏ امیرال ومن نی ایرث این تج رعسقلانی رح اللد(ال تو ی 852ھ) فرمات ہیں: "فالقسم اَاأؤّلء وهُو الَحْنْ بگذپ الوّاوي ف الحَدیثِ النبويٍِ هو الوضوع”

یں ٹم اول وہ نع ہے جو حدبیت نبوی ضر ٹیش راوگی کے مگھوٹ او لے کے بارے بی سے اپ معن دانے راو کی ردایت موضوع ے_

۸م ی الدرین مآ فندی ‏ رکوئی ضفی(التونی 981 )رع اللہ فرمات ہیں: "'أما کذب الراوي: فہو أن یکون ثابت الکذب عمدا في الحدیث النبوي فإذا ثبت کذبە فيی حدیث من الػأحادیث فہو مطعون بالکذبء وحدیث الراوي الملطعون بالکذب سواء کان کذبه فيه أو فيی حدیث آخر یسی موضوعا ومختلقا..... ولیس فيی الحدیث الوضوع شرط: تق یکون الکذب والوضع فيه بعینهء والراوي ال متعمد بالکذب في الحدیث النبويء وإن وقع الکذب منه في مدة عمرہ مرۃ واحدة في واحد لم یقبل حدیئثه وان تاب واحسن حالك""“

1

18 اسلام آباد الس ای عیاض اورا نک یناب الف تع ریف حقوق صلی لیا تارف اور اعت راضات کا جائزداز مر سفیان عطاء اور اکم ساد علامہ اقبال ا وین وٹیو رس اسلام آباد ۳خ 53 الر سا ات فی صح 106 دار الیشائر الا سلا می الطیی امت 1993

۶ اسلام آباداسلسں۔ تا شی عیاض اور ا نک یکناب الشفا تع ریف حقوقی امصطفی لیا تارف اور اعتراضا تک جاتزداز ج سفن عطاء اور اک مج سیادعلامہ اقال او بین بوٹیورسٹی اسلام آبا ٣خ‏ 55 دشر لنزہ زی انفظر نی نو ٹج غزبہ لفکر, صفہ 85۔ کب الیٹری مک اپتی۔پاکتان

0 جھوحۃرسائل فی علوم الیریثء مقد مر نی اصول ایر یف دار التپ العلید بروت لبتان۔ 1971

6

ٹر رر رر رر رر رم نر مر مخ رر رر مر رر رر رر رک رر کک رت رر ےر کرک رر رک رک رک رر رر رک رر رک کر رر رر رت

تاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یر جا کالر یس یی کر دداعادیث پر ایک علمی ماک

جہاں کک راوی کے جو ٹکا تلق ہے نود کہ اسکاحدیث زگ ٣ف‏ ین تع رآ وٹ پوعاغ بت بد جا .اکا گیا نک دد ادف من :دک ایک نف مین کی ا سکا مپھوٹ اولناثابت ہہوجائۓ ذدوراو لک اب راد دیاجات ۓگا. او رکذ اب راو یک حد یہ کو مو ضورع .ناد ثی قرار دیاجاۓ گا خواہ ا لکا بجھوٹ اولنا٘س حدبیت میں خاہت سے دوردایت ہو ماکوکی دوس ری ردایت ہو ور م وضو حریث کے لے ىہ شر ط نیل ےک موضوع ای روای تک وکہاجا ےگا جس ٹیل راو یکا نہ مجھوٹ اولنایاروابی تک وکھٹرنا خاہت جاۓ دورادگی جو چان وچ ھکر حریٹ بد ى٣‏ میں مجھوٹ لونے . اگ ال نے زن گی میس ایک ہار بھی حدیث نوى خَْْ یں بجھوٹ (ولا وا سک یکوگ بھی عدیٹ قبول نیو ںکی جات ۓگ اگ چہ وو تو کر نے اور ا کی حالت سور جائۓے_ ان او ۱ے لاو ےکن سی اکا ا مات ےلان ان نے جن جن دن مان کت ا کی نے ض لع( نے دب خوش ات از قل رض تورہوںگی! اور گر ا سکسولی کو لیاجاۓ جو این جو زکی نے مو ضوع دوای تک ذیل میس بیا نکی تو شا ند بیا نکر دہ اکر روایا تکا اکوگی رکانہ یش جے۔

٭ ان جھزی فرماتے ہیںء

"إٰذا رأیت الحدیث یباین المعقول أو یخالف ا منقول أو یناقض ال٣أصول‏ فاعلم أنه موضوع"'٭

جب ت مکی حدی ٹکو دی کہ وہ متقول سے گر اتی ہو پا مقول کے خلاف ہو یااصول سے نف ہے نو جان ا وکہ وو مو ضوع کت )ے- اس ر کی روایا تک بیا نکر نے کےکیامنقاصد ہو سے ہیں۔ اس بارہ یں بھی علاءد میدشن نے اپقی تی آرا کا ا کہا رکیا ہے مشاأ شادولی انڈد محرث دبلدئی اس بارہ میس ککحت ہیں۔ "کتب قصد مصنفوما بعد قرون متطاولة جمع ما لم یوجد فی الطبقتین ال٦ولیتینء‏ و کانت ف ا مجامیع وا مسانید المختفیة فنوّھموا بامرماءو کانت علیٰ السنة من لم یکتب حدیثه المحدّثون ککثیر من الوعَاظ ا متشدّقین۔و امل الامواء والضعفاء ء او کانت من آثار الصحابة والتابعینء او من اخبار بی اسرائیلء او من کلام الحکماء والوعَظء خلطھا الرواۃ بحدیث النی قٍ سھواً او عمداً _” یی( مفبو]) ا نکنب کے مصنفین نے ان روایا تکوش کیاج پلیہ دو طبقا بک کب میس نمی آگیں۔ جو غیر متروف ات حدیت میں شی ںگر یہ راویات عام طور پر قص ہگو وا ین کور علم وانے اور ایل عواووہو س لوگو کی زان زدعام یں جو ان سے مض روفقی عحف لام لیے تھے یابہ صحابہ اود جات نکر ام کے اقوال تے یااسرائی ضس دمکابیات یا معماء اور قص ہگو علا کلام تاج سکوروات نے نلط ما کر کے بویع آحدبیث کے طور پر من لک دیا۔ زیل یں علامہ خادم تین رضوی م م۶ م اک یکتاب ''واقیات سرت الٹٰی ضا جو کہ مولوی خادم تین رضوکی صاحب کے خطباتہ خطابات اود نقار یر سے ماخ ذ اقتباسات پر مشقل ہے۔ ان خطابات و خبات ے وو وم فو عوام النا س کالہ دگرماتے ر ہے۔ الن خطبات و خطابات یل آپ ن ےکی ایک ردایات داعادی ث کا ح الہ دیا۔ آپ نام ول رسالت ضا سے محافظط کے طور پر مشپور ہیں۔ ناموس رسالت مم کی اہمی تکو باو رکروانے کے لے آپ نے مخلف واقعات سیر ت بھی بیان گے۔ اس مضمون میں ان

روایا کا ششقّی جائزلیا جا گا اور ان کے تین یکر ددواخقیات کے استناد اورا نکی استشبادیی حیشیت پر ھی ما ککمہ من کیا جان ےگا

پش ریب ال اوئی۔ ال زءالاول ص فی 469۔ مٹبوص دار العامت۔ جہود علماء المسلمین فی تمییز صحیح السیرة النبوبة من ضرعوفہ ازع بر الگ رب مکیوی_ سخ 38

اللہ البالغہ جلد 1 صمج 3د- دار ایل بروت- 2005

رر رر رر رر رر رک رر رر رر رر رر رم رر رت مم رر رر رر رک رر رر رک رر کر رر رک رر رک رر ےر کر رر رر رر رک رک رک کر رک کت

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

بی روایہت: ا سکاب کے ایک عنو ان "حضور خم تھ ریف لا ۓل وکیا ہد ا؟'' کے شح تآپ میا نگمرتے ہیں۔ "جاور مشرق سے مخر بک رف بھاگ پڑے ‏ عغرب کے مشر قکی رف بھاگ پڑے ء ایک دوسر ےکو مارک دینے ک کہ حور لم آ گے ہیں۔ ۷ت انی با تکو ایک اود خطاب می بیا نکرتے ہیں٠‏ "مور خلا آگے_ انور قگل ےزین اگل ہے شی قل آۓء کچھ فکل آۓ ‏ سانپ لکل آہے۔ زوئٹف مل کے بل نگل کے گاکیں قل آھیں, ہر خیاں فل سے پکئیں, حور ماقم گے مشرق کے مانور مخر بکی طرف. مضرب کے ناجود مشر قکی طرف دوڈے ۔کینے گ ےک حضور ملظ ہے ہیں_ "24 جب اس روای تکو اسلائی لپ میس ماش شلکیا جاۓ پذ ضرت علامہ قطلا ی (851ھ 7 923 )ابق تحنیف مواہب اللرنیۃہا مرش زا کے کیی پٹ فر ا ہیں:۔ ”خرج أبو نعیم عن ابن عباس۔ ج- قال: کان من دلالة حمل آمنة برسول الله- قٌَ- أن کل دابة کانت لقریش نطقت تلك اللیلةء وقالت:حمل برسول الله- قَي- ورب الکعبةء وھو إمام الدنیا وسراج أھلہاء لم یبق سربر مملك من ملوك الدنیا إلا أُصبح منکوساء وفرت وحوش المشرق إلیٰ وحوش المغرب بالبشارات: وکذلك أھل البحار یبشر بعضہم بعضاء ول فی کل شہر من کل شہور حمله نداء فی الثرض ونداء فی السماء: أن أبشروا فقد آن أُن یظہر أبو القاسم- قك- میمونا مبارکا.. الحدیث. وھو شدید الضعف.وعن غیرہ: لم یبق فی تلك اللیلة دار إلا أشرقت ولا مکان إِلا دخله النورہ ولا دابة إلا نطاقت "” مو اھب الد جیتکا ار دو جمہ ایک پر یلوئی الم مولوی مھ صدرل بر ادوگی صاحب کلک مررس جامعہ نظامیہ رضوہ۔لا ہو رن ےگیا آپ ال ردای ت کا7 جمہ رھ ال ےکھت ہیں ؟۔ ٰ اس روا تکاتزجمہ ابو یم نے حطرت این عباس ر شی الل تھا سے مرو ردایت فف کی ہے .٤وہ‏ فرماتے ہی ںکہ حقرت آآمنہ رضی ال مھا کے عاممہ ہون ےکی دیل بے ہ ےک انس رات قر می کے تمام انور بول پڈڑے کر بک ہکا حفضرت آم کے یم اط می رسول اود ساپ ریف فرماہیں اور آپ د نیاواللوں کے امام اورچہ اخ ہیں ام نیدی بادشاہوں کے جخت اود ھ پڑ گے اور شر کے جنگی جاور جو شخریی دہینے کے لے مغرب کے جنگ ددندوں کی طرف بوا ککھٹرے ہو ئے اسی ط رح سحندرگا خلوق بھی ایک دوسر ےکوخ وش ری دی ےگگی اورحمل کے تمام مپیٹوں میس اننس ایک کآواز زین سے اور نیک نداآسمان سے کان ےگ یک تم ہیں خ وشح ری ہو ء ددوقت آ چکاے کہ ابو القا ہم سم برککوں کے ساتھ جلدہگر ہو رہے ہیں۔ یہ عدبیث بہت یف ہے۔ دوروں سے منقول ‏ ےکہ اس د عکوگی مکالن نہ تھاج رشن نہ بہوااور اش دن ہمہ ور بی نور تما اور جاور ہو لے گے تے_ "26

٭. کاب مواع!پاللر یتیل علامہ قسطلا ٰیٰ ال ردایت پکوشریر ضیف خراردینےہیں۔

-: اس روایت پر مروف مور اور مشپور عالم علامہ شی نما یکا تب ود نی سے خالی نیس ہوگگاہلکھت ہیں‎ ٠

واقعات سیرت الٹی مفقظ ازعلامہ خادم ین رضوی۔ صفحہ 10 د جا پیش لاہور واقعوات سرت الئی مہم ازعلامہ مادم مین رضویی۔ صفحہ 40 دماپلیکشٹز لا ہور مو اہب الل ریہ جلد اول صخہ 121ء133 مطبوع النکت الاسلائی-2004

مو اھب الرییۃ(اردوتر جم جلد اول صفیہ 7475 ناش ر فربیدیک سٹال۔اردوہازا/- لا ہور

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ک ک ک

72 کےحصتص ٠ے‏ _ےے ےک کے کے ےک بک ک ےء کے 1 کے تب ےص ےےےءے ے ےھ بے کے ص ےم ےءے ے ے ےے ‏ ےے ‏ ے ے ‏ ے ے ے ءے ےے ے ٤ے‏ ے ےے ےےے ےےےے ےےے ےے ےک ےےے ےءے ے ےب صےے ے ے ے أ>ہےے کے ے ‏ ے ے تہ ہ ےےے ے ےےے ‏ ےے کے نے ے ‏ شی ف٤‏ مت ۸ صر ‏ _ےےےےے حم ےتےتٌَگک۳.کبکرےے ے ےے ے ے “کے > ے ے ےک ١٤ء‏ ےک کے

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبدا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

نے دل پیج رک مے یہ لو رکا ایت و یی ہے۔ یہ اس سل ےک میلاد کے عام جلسو کی ردفن اٹچی روایوں سے ہے۔۔۔ اگ رس یکو اسعاءالر جال سے آنگاخین ھی ہو اور وہ صرف ااب ۶ یکا ذدق رکتناہو و ووفتیاروایت کے الفاظ اور عبارت کوچ کر یہ فی ل کر در ےگناکہ يہ تسری ہچ تی صدری 87پ دو میاروایت: حافظط مادم تین رضموکی اپنے ایک خنطاب یل فرماتے ہیں :- "الیگ ہر ار سال سے ایر ان یس وگ ججلر ہی تھی ج سکولوگ و جے تھے جس رات حضورمفڑم آےء ضس منڈریی وگئی۔ پاری گے اہول تن کہاگ ےکیاہ کیاسے رات کو تل نیں ڈال تھا ؟ س رکارکی سپ نگ جل دہ ہے ۔آنگ کے پاس جب پھادی گے وکہاکیوں بھی ہے ؟ اس ن ےکہا بی پت غیں را کو حضور مم تریفراے ہیں_._۔ حضور خلا کی یبر ضجرفرات ااس طر پیل دجی فی جس کےکنارے بیبددوفصارگیا اود ہت پر ستوں کے معبرپنے ہو ئے تھے ۔ ایک ر بک ناف رما ی بھ یکرتے اور ٹر ابا ی بھی ہین جب حضو رف اس د ناش تشریف لا خر فرات دوصرے رر گی پڑگاء دہ پباری ضسع اھ کہا ےکی کے ؟ ان ےکہا ہیں پبید نیس حضور آ گے ہیں۔ای ددابی تکو ایک ہار بر جیا نکرتے ہو کے ہیں ''حدیث پاک می موجود ہے شر فرات اس طرف پل ردی تھی :جس مجع حضور خلا آے ضرفرات ٠‏ وپ

٭ یہ ردایت علامہ نے د لال الو سے کی ہے دلاکل القبو ےکی اس ددابیت کے بارہ شی ای کے حاششیہ می لھا ےکلہ یہ ایک ھ رسل رداایت ہے

٭× ان او رای کاب اسد الخابہ شش اس ردایت کے راوگ دھاٹی مخز وی کے پار ہبی سکیھعت ہیںء 'ابن سن کے نزدی ککہاجا تا ےےکہ اضپو نے زمانہ جالی تک می پایا۔ اس عدیث(زیربھٹ) سے ال نکی عحاءی تکا پت نیل چتا_

٭ ام ان تج رحسقلا نی نے کی این ای ری بات بی الاصاہ میس نف لکی۔ ا3

٭ ام این تج رسای نے مو اہب الد مشش اس حدیث کے ہو انے سےککھھاء آپ مق کی دلادت کے جیب واقعات یں سے حسب روایت ایوا نکسریا کے چو دہکنگرو ںکاگرناہ پر طبر کاجوش ما نا نار فار کا بھجنا جو کچلہ تار سال سے نہیں ھی ان روایا تکو توقی: خر انی نے کھو انف میں اور ابع عماکر نے در عکیاہے۔(حاشیہ) جن عبدالقتاجں ابو قد کے ڈیںء ىہ حدیث درست نیش ءشہ بی ال کو بیا نکرنا

ھی 32 جا ۓے_''

ں اس روایت کے متعلقی علامہ شی نما یکیت ہیں_ یہ قصہ تلائیء خر انی این عسکر ور ابو ٹیم میں سند اور سلسلہ روایت کے ساتھ جرخور ہے۔ الع س بکام مکی راد مخزوم بن ھانی ہے جو اپے باپ پان مخزوی (قرلیٹ ے) ج سکی ڈیڈ سوبر سح تی بیا نکر ج تھا بای نا مکاکوئی صحالی جو مخزوی قریئی ہو اورجو ڈیڈ سوبر کی عررکتہد معلوم نیں۔ اصابہ و خی رویس ای رایت کے سلسلہ بیس ان

تس رت لی مفظ از شی نعمانی. جلد دوم۔ حصہ سوم۔ صحہ 419 ادارہاسلامیات پھر 2002

ش٭ واقوات سرت الٔی سم ازعلامہ خاوم مین رضوبی۔ صفحہ 1411 و 40۔ دعا بیکش لا ہور

ول تل النہو_ الچ زمالاول۔ صخحہ 139 حا شی دار النفالُل- الطبعۃالمًاید- روت

سد الفاہندنی حرف" اصحاہ۔ جلد مخ 3594358 ترجہ م5338 دار اککتب العلریی۔ بر وت۔ نان الاصاہیِنی تیزااصح::۔ ص 1535 جم بر 8985۔ المکتیۃا تی بررت-2012

مو اھب اللدمیۃہ جلد اول ص٢‏ 131 وحاشیہ۔ مطبوع اللکت الاسلائی-2004

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ک ک ک

یب ٤ۂت۱٢ےءے‏ ے تی بمممفو ۔ ض صے ےے ے لے کے ے٤٤‏ ےھ ب_ ےءےۂ ےت تب یٹ ٹیم ٔک‌ےرے ے ے ص۱ًمےےے ےے ے ےت ے متںدے _ ے ے ے ے ے ‏ ے >> کے ےک ء ےے ےے ےک م+.ععے ۰ ے ے ے ے ‏ ےے ےے ے ےک ےے کے کے ے ‏ صےےے ےےےے ‏ ےے ےے ےے کے ے ے ےےے ےک کک ک ےک ےے ےے تک کے ے ےےےء ے یےےےکع.۔ح ےیےءءےےک تیے کک کصےےی ےة ے ‏ ے ےم >ےےےےےے بک ے ‏ کے ےءةے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبدا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

کا نام موک طط ریقہ سے آیاہے ۔ ان کے صاتزادہ مخزوم بن بای سے مد شین یں بج یکوکی شناسا ٹیس یچ کے داوبیوں می بھی بی حال ہے۔ یہا ں کم کک این ع اکر جییسے ضیف روایول کے صرپرست مھ اس ردای تکو خی بی ہکی جرد تکرتے ہیں اور این جج رج ےکمزدرروایخول کے سہاراادر پیشت پنا بھی ال لکوم رسس ماس کو تار ہیں۔ اب ٹیم کی روایت میس بین جعف رین این مشپور وضع ے_ "33 تمریروایت: ایک اود کہ آپ ایک دردایت بیا نکرتے ہے فرماتے ہیں:-

یر بے لگا: خلا ادلک علیٰ مَا مو اجب من ککلاہی۔ گھیٹریا اق لک اے پا نٹیس اس با تکو کھوڑہ ٹس چھے بڑکی بات نہ بتائول۔ اکیان ےکھابظاءہکی بات ہے۔ اس نے کہا: رسول الله قچؤ ٹ الَخْلِنِ يَىّ الخرتینِ خژکم ہما قضیٰ و بما مو کائن .کا یہاں جنگ می لکی اک ہے چادوپپاڑوں کے در میا نمچوروں کے شہ رم ء اشدنے دہاں نی کیا جو یھ ہو چکا ہے ال سک خرس گیا دے د ہاے جو یھ قیامت کک ہونے والا ہے ا لک خر می دے درراہے۔۔۔ "ند سے دوچ وا اک یا نے لگا کے لکا اتا ہوں لان می ری مرو کی حفاظ تکو نکر ےگا؟ اس ن ےکہاىی ڈاٹی جم نے دب ہے-۔۔وہ چلاگیا می یہ با تکرنے اگاہوں حضور مق بھی ات ہی سک مج ٹس می رکی تح ریف ہو۔ اس نے جاک امام الاخمیاء سے لا قا تکاء ساراواقعہ بتایا اس ظر میں کریاں ج اد ہا تھا اس طرح ہود حضور حم ك9 نے مرے سا تھ تن ت ای ہے اب می اپنے سب خلالمو ںکو ہلا تاہوں۔ تنک یں س ناک نے تیرے سا ھکیابا کی سے_-_۔ "ھ3 ای ردای کو صخحہ 49 پر تفصیلا بیا نکرتے ہیں٠‏ اس دای تکی الیک سن کے الفاظط کہ اس رح ہیں؛-

حدثنا عحد بن اسمٰعیل ء حدثنا مسلم بن ابراميمَ حدثنا ا؛قاسم بِنْ الفضبٔلِ الخُْدَانیء عن نضبٔرة عن اہی سعیدٍِ قال: عَدا الزِتٰبْ عَلَی شَاۃِ فَأَخدمَا فَطَلَبَةُ الواعي فَانْتيَعَہَا مِنْه فَأَقٰی الْتْبُ عَلَی ذَتَبِهِ قَالَ: لا بَرٌ تَتَقِي الله تََْع مِئی رِزْقّا سَاقَهُ اللُ إِلَِ ؟ فَقَال: یا عَجَي ذِنْبٌ مفع عَلى ذَتَبه يُكَلمُِي گلامَ لس فَقال الد‌ْبٰ: الا أَخْوزك بأحْجَب مِن ذَلِك مُحَمد صلی الله َليْهِ وَسَلَم رب یُخْیژ الام بِأَنبَاء ا قد سَبَق قَال: فَاْبلَ الزاعي يَسُوق عََمَةُ خ دَخل اليتة فَرقاھا إل زَاوية من َقاَاما ثُم ای وشول اللہ مب الله عليهِ وَمَلم َأَحْره مر وشول اللہ مل اه عَليْهوَمَلّم قثُودِي الصَلا

مد ت فَقَالَ لی بج سے 7 " الله '( اللَّهُ عَلَيْه ٌَ صَدَق وَالَّذِي تَفْیي بِيّدِ لا تَقُوم السَاعَةُ حَق يُكلمَ الیْبَاغ

امام حافظ گی اس روای کو اتی محرو فکتاب اتب ااضعفاء'' کو وك"

اس سلسلہ می آ پککھت ہیں

مھ بن ا ار کی ہی ںکہ فص بن عی نے ۴ہیں بتایاکہ مسلم نے بی ںکہا کہ چیک دن می اسم بن تل الید ال کے پا ٹیا تھا شعبہ لن کے پا آئے اد آپ سے الد نٹ ری اس مریت ے متحلق استضا رکیاجو بیز ین سے متحلق تھی اور ابوسعیرے مرو تھی مل مکی ہی ںکہ شعبرنے تام سے و چھاکہ شائ دآپ نے ای حدی ثکاسا

33

سرت ایخ انز شی تمائی لد دومحصہ سوم۔ صمح 416۔ ادارواسلا میات پلیشھ 2002 وا قعات سرت اص مہم ازعلامہ نماوم مین رضوی۔ صفحہ 14911 دعاپایکشن لا ہور شاب ااضعذاء جلد ‏ صفحہ 132ء133_ نی کر القاسم بن الفعضل ال ویر ال الطہتۃ الا وی ء مطبوصہ دار این عباں۔ مھر

10

کے ط٤‏ ے ٥ض٥رتۃ ٤‏ ٤ے‏ س6 ممم۰ےےے ے ےر ے ے ‏ ےءےے ےےے ےک ے ےت کت فدب_ے _ےرےے ٤ے‏ ے سے ےے ےے ے ے ‏ ے تتے ےےے ے٠‏ ےرت :ک..۔ےےکےےےے ےے ے ےے ‏ ےے ےےے ےےے ے ےب مےیےءےءے ے ے ےے ‏ ے ے ے۔ ص بے ے ےت سس مک کن_ےےے ‏ ے کے کم ے ے ے ےت لے ےک ےک ت7ت ۰ک <> ب_یے ے ےےے مےےے ےک ے ےب ے کےرںےءکےءےء ٠٠ے‏ کۂےےےےۂے ‏ کے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبدا مٹیم اج فاضل ع بی۔ ربص رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

شہربن حوشب س ےکی ہوگا۔ تام نے جو اپاکہا یٹس یہ پیم نے ابونعضۃ سے ابو سعی ہکی روابی تک دہ حدبیث کے طور پر سا ان دووں کے در میان ىہ مکالمہ جارگ دب یہا ںک ککہ شعبہ خاموش ہو گے مہ بھھوڑ پے دالا تمہ اس کے علاد ہج ایک سند سے مم روگ سے اور اس سند میں بج یکموری او رف ے_ "36 منر رجہ بالا بحٹ سے یہ معلوم ہو تا ےکہ

٭ اص ردایت می ضف پایاجااہے۔ حج سکواام فی نے ابق کتاب میس بیا نکیاے-

٭ شع کو بھی اس سلملہ میس پلتھ جذنا ‏ ےکہ اک نے ابو نرہ سے حدی ٹکاسماع خی لکیا ای لے دہ کے ہی ںکہ. 'لعللک سمعته منْ شَْر بن خوشب'ّن

شا رآپ نے١‏ عدی ثکا ما شر بن حوشب سکیا ہوگا۔ ' : سم بن الفحضل اور وف کی مر ویات سے متحلق ام بن علی بن مویہ الا الیٰ(347ھ 4287-ھ) رپ کزاب ہروا لح م٠‏ می سکییعت ہیں:_ "آپ( ما م) کا ابو نف سے صرف زکاے متعلق حدی ٹکاسما خابت ے۔ "آ3 ای روایت ایدو یاسند بج ایےےء قال الامام احمد ء حدثنا عبدالرزاق اخبرنا معمر عن اشعث بن عبدا ملک عب شھر بن حوشب عن ابی هربرۃ۔ ایاردایت مل ایک راوگ شھر بن حوشب یں مجن کے بارہ میس تح یب الححز یب میں ہے۔ لف کت ہی سکہ اس روا یکو مطعو نکیا اگ یاہے۔ گی بن ال کیم اپ دالد کے داسلے ے بیان اکرتے ہی ںک جھر بن جو شب یت المالی کے لم تے اور ان ہوں نے اس سے درااہم سے بھ ایا لےلیاتھا۔۔۔۔ ا نکی ان روایا تکو قبول ش ہکیاجاۓ نجس میں ىہ طفروہوں۔ "38 نام عقپلی لعل و مع رذ الر ال کے حو الہ ےلت ہیںء نکو مو نکیا جا تاے اور ا عکو ضیف قراردیاگیاے_ "39 امام ذ صی سیر اعلام الشیلاء یس امام نسائ یکا قو لککتت ہی ںکہ ی یف ای یث تھے۔ اود ابکن عد کے نذدیک ا نکی عدبیث سے دبٹی محا لات می وٰیل نی چلڑی جاعکتی_

چھ تی روایت: نک یک ٣ر‏ خرگ زرحرو ٹک ۶انرے ی تآز لزان ا فطل سے وعر ےکاپاس جافو جج کرت ہیں۔' در نع ہے۔ اس ردایت کے الفاظا چھ اییے نل کے ۱ے ہیں:۔ "' عن أم سلمة ‏ کان رسول الله -لٍ- نی الصحراء فاذا منادِ یناديه ۔ یا رسول الله -يٍّ- فالتفت و لم یر احداً ثمٌ التفت فاذا فإذا ظبیة موثقةء فقالت ادنْ می یا رسول الله کِّ- فدنا منھا ۔ فقال" :ما حاجتك؟ قالتء ان لی خشفین فی ذلك الجبل فخلّنني أذھب فآرضعہما ثمٌ أرجع الیک۔

أ سکاب ااضعذاء جلد وص _١33‏ نی ؤکر القاسم من الفضل الی انی ال ۃدالاوٹیء موم دار این عیائں۔ مر ”رہل کچ مسلمم, جلد دوم صفیہ 140 الطہعۃالاویٰ۔-1987۔ مطبوص دار ا فو چروت۔

گأ تم یب التحھز ریب جلد وص 371370 الطتۃالاوی۔ مطبوع حیرآپاددکن

کاب الضعناء جلد دص 75 فی وک ر حر بن حوشب۔ الطہعتۃالاوٹیٰء مطبوص دار این عپاں۔ مر

''ی ر اعلام الاب الطبقدالمیھزیر شربن حو شب جلدبوص 374

11

کک بے صے۱‫بےےے٠ے‏ کے ے ےک ہے ہے ے ‏ ےم “ےےے ے ےت ے ے٤‏ مصۃۂے ‏ ت تےصض ضص صے ے ہے :کک ٢ب٢‏ ے ےے ے ‏ ے ے ےت ے ےب ے ‏ ے ںض6ضظ۱ئە6>ئ-ےے ےےہے ے کے ہے تکس کے ےےے تےےبےکر ءےے ے ے کے صےےےے ے_ےے ےت مببضببءےۂۂ_ےے کے ےک ے ےتک > ے ت ےے ص ہے ےے ےک ےےےےے ‏ ےے ے ہے ےے ےک مم ے٠ے‏ کے یے ص>ےے کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

قال" :وتفعلین؟" قالت: عذبي الله عذاب العشار إن لم أفعل۔ فأطلقہا فذھبت فارضعٹ خشفھھا ثمٌ رجعت, فأوثق وانتبه الأْعراہي فقال : ألك حاجة یا رسول الله ؟ قال:نعم" " تطلق ھذہ ء فاطلقھا فخرجت تعدو و هي تقول :أشہد أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله۔"

حقرت ام مہ سے ددایت ‏ ےکلہ ایک ع رجہ حضور خافك ححراء میں تھے ای کفآواز دنین وانے نے آوازدیی۔یار سول اللر ما آپ لا نے دعمیان دیا اھر کوگی مر ظط دبکھی پھر دوبارہ موجہ ہو ذ ایک ہر فیپ نظرپڑیی جھ بندھی ہوگی تھی۔ اس ن کہا یارسول اللہ غ٦ك‏ مہرے قریب تش لیف لایے ۔آپ اس کے قریب تشریف نے گے۔ فرمایا ہار کوک حاجت ہے ؟ کی تن ےکماء گا ال اس پپہاڑ ٹس میرے دوچ ہیں ۔آپ جج ےکھول دی کہ می انیس اکر دددھ پلاول اود پچ رآپ کے پاش وائیل آ جاں۔ فربایا۔ لمات یکر وگا؟ این ےکھا گر میس ایمانہکروں نو الڈرجے بد ماش یککا نکی لیے وانے جیماع اب دے۔ آپ مڑم نے اس ےکھول دیا۔ دہ پک گی اپنے ہو ںکو دودھ پلایا اور والیں آگئی__ ب یکرمم خاظم 2 2 7 , 7 "ےو و ےی ا کوک کام ہے ؟ فرمایا۔ہاں اسے آزادکر دد۔ ال نے اسے آزا کر دیادہ تڑئی سے پوا گکگئی او رکہہ ہی شی می ںگواہی دبتی ہو ںکہ انل کے سو اکوئی معبو نہیں اور آپ ڑم انڈر کے رسول ہیں_' 41

علام ہکی من یکر دہ اس دوای کو در کر نے کے بعد ان داقعات کے جا “تین نے اس روایت کے حو الہ جات سہھم یرہ شع الزوائمدہ ولا لصل نوا الشفا اور الوفاء سےکیے_ اب ہکم اس روای تکا جائزٴ عم اساءالر جالی+ اور علم جرح و تی لک رو شنی مج لیت ہیں۔ ٭ مج پہلا عو الہ ال ردای تکادیاگیاے اس کے مطابی بی روایت سعھم الک رے ‏ یگئی سے ۔گر اس دردای تک ذ یل ٹیل دی گے حاشی کو مسر نظ راندازکیاگیاہے۔ انل

حاشیہ یں حافظ الھیشہی نک یکا بکاح الہ علامہ نے مھ دیاہے) کے الفا ط کے ہیں:-

"اس ددای تکاکرحافظ الھیٹہی نے المجمع می لکیاہے۔ اود اس روایت میں اغلب من میم ہیں جو رر فی فوں_ “٥۷‏ یاے۔الو ھ نے بی ردایت ام سے - 0 و کی ول کل الو کی ردایات پر ڈاکٹھررواس تقلعہ جی اور عبد البرعپاسنے حٴتین وشن سکیا۔ اس ردایت اور اس کے منلف طرق بھی بیان کے او رککیوا_ "ھی میزران الاعط ال یس (اس ردایت کے اسیک راوگ )لیبن ابر احیم الغزرال کے بارہ میں سک ہیں کہ یس اس راو یکو نیس حاتتا۔ اور ا کی ىہ روایت باضل ہے ج کہ ایک نات کزد رٹ سے یگئی ہے..._ الین حم جوا کی رسے روا کر رہے ہیں ا نکوکھ کوک یس چاتانہ ا کواورہ ان کے چو 3 اسی روای تکوححخرت ام لہ ءزید بن ا تم کے ساتھ اتد ححفرت انس بن ماک سے بھی منسو بک اگیاہے۔ اس سنلد کے جو الہ سے بھی اک کاب کے حاشیہ یش "7٦‏

٠‏ اس روای تکا دو راج الہ انل الو ڑے رم۶

وا قعات پر ت لی ضپام ازعلامہ نماوم بین رضوی۔ صفحہ 60:59 دعا بیشن لا ہور تل تم اککی للطبرانی جلد صن 3324331 عاشیہ۔ تباین تی القاعة ول تل النبوۃ الج زوالاول۔ صخحہ 375ء376عاشیہ۔ دا النفالُل- الطبعۃالًاید_ بی روت

یب ٤ۂت۱٢ےءے‏ ے تی بمممفو ۔ ض صے ےے ے لے کے ے٤٤‏ ےھ ب_ ےءےۂ ےت تب یٹ ٹیم ٔک‌ےرے ے ے ص۱ًمےےے ےے ے ےت ے متںدے _ ے ے ے ے ے ‏ ے >> کے ےک ء ےے ےے ےک م+.ععے ۰ ے ے ے ے ‏ ےے ےے ے ےک ےے کے کے ے ‏ صےےے ےےےے ‏ ےے ےے ےے کے ے ے ےےے ےک کک ک ےک ےے ےے تک کے ے ےےےء ے یےےےکع.۔ح ےیےءءےےک تیے کک کصےےی ےة ے ‏ ے ےم >ےےےےےے بک ے ‏ کے ےءةے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یر جا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

"اس ردابی تکو اس (ححضرت اس بن مالک دا ی) سن کے ساتھ (ام سی ھی نے الف الس نے اود طبر ای نے ام الاوسط یس اور ابو یم نے صاب می کے واسٹے سے مھ :یا نکیاے۔ او یہ راوئی ضحیف ہیں می بات حافظ ا ھییۓ تح الز اکر جلر 8 صن 95د ش کسی ں۷ تھب راو الہ اس ردای تکا الشفامکادیاگیاے۔ قاضھی عیائ اپ ینکناب می اس روابی کو درر نج توکرتے بی گر ا کاکوکی و الہ خی سککت کیہ انہوں نے اس روابی تکو کہاں سے لیا۔ بہرحال آ پک کراب الفا یر عبدہ ع کوک نے تعلیقات اور حاشی ہککھھاہے جس میس دہ اس ردایت کے پارہ می لککھت ہی کہ٠‏ ''حافظط المنفر دی نے ایق یکتاب ت غیپ الترعب میں اس کے ضع فکی طرف انار ٥کیا‏ یہ روایت جنوں اسناد جن بس مخفلف طور پر حضرات انس بن مالک ءال سید خددیایازیڑ من ار تم موجھ دہیں ضف اور نکارت سے خالی غہیں_ 45۷

٭ زم الد ای رالفاوی(1 83ھ 902ھ) ای قکابالمقاصد الحسنة فی بیان کثیر من الاحادیث الشتھرۃ علیٰ اللہ زی اس حریٹثے متل کلت ہیںء "یہ حعدبی ث کی ز پان زدعام ہے۔ اور اک ڑآ تحضرت ملف کی مس سرائی نٹ بیا نکی جائی ہے۔ جلی اہ اب یمرن ےکہا ا سک یکوئی اصل شیں۔ اور جو بھی اس روا کو آتحضرت و سے موب ماس وہ گھوٹ بولتاے_ 6۷“

پا وہک ردایت:

ا تاب کے صحہ 104 پر علامہ صاحب کے ایک خطبہ سے ابن خل کے حو الہ سے آپ کے الفاطط فل کے گے ہیں اور نیہ می لیا ےک ہآ محضرت شف نے این خنطل کاخون ال سک یگمتتاخیو ںکی وجہ سے حد رکیاہو اتھا۔ آپ کے الفاظ ہہ اییے نف کے کے ہیں۔

: ان فخ لکیے کے خلاف کے اند رگسا ہو اتھا۔ نو مرد اور چہ عورتیں ای خجیں حضور مم نے فرمایاچہاں میں ا نک وف یکر دو۔ا نکاجرم حضور خز ک یکمتاشی تھا ہے حضور ما کے غلاف اشعار ینا تی تیں ‏ این خل نے دورنیاں رکھیں ہوئیں شجھیں_ ا نکو پنیے دی تھا اور حضور من کے خلاف اشعار پڑھو اتا تھا۔.۔۔ ایک مال گے حر ضکی حضور لال این خطل نوکیے کے غلاف سے لپٹا ہو اہے ایک طر فکعب ہکا خلاف سے دوس ری طر فکعب ہکی دیو ار ےء ا بکیاکر یں ؟ حضور ضف نے فرمایا: اہ فربایادہاں بی مار دو-"

ان الفاظ کے سا تج ء اپنے مق م ہکو ابق مر شی کے مطاب شاب تہمر نے کے لے علامدنے ایک عحدبیث ممطن نساکی سے لی ہے جس کے اللفاظ مھ ایوں ہیں

"عَنْ مُصّعبِ بُنِ سَعْیء عَنْ أَپیهء قَالَ ا كانَ یَوْم قشع مَگةّ أَمُنَ رَسُول اللہ 885 التّامن إِلاً أَيعَة تفر وَامْرآَتَٰنِ وقال " افْثلَومُم وَإِنْ وَجَذْتْمُومْمْ تأارت تَتزَل تلق را خلان اكعةکاستئ راہ سیابق کر وظازنا کر کعَلَد سة الاعکہ اک اتفاان - لھا رافایکز لٹ صُبَابَةً فَأَذرَكَهُ الئَامنْ نی الشُوقِ فَقَتلُوه وَاَمًا عِكُرِمَةُ فَرَكب الْبَحْر فَأَصَابثہُمْ عَاصِفث قَقّال اَصحَاب السَُفِيتَة أَخْلِطوا فَإِنٌ الِہَتَكُم لا ثُغي عَنْکمْ

ولا تل النبوۃ. الجزء الاول۔ صفحہ 376 عاشی۔ دار النفائں۔ الطبعدالبای۔ یی روت الغفاء تعریف ح وق مصعنی, صلی الایات نی ض روب اید انات۔ ص84 3حاشیہ۔ الطعدالادیٰ۔2013۔ وحدۃالبحوت والمد راسمات_ المکۃ تمالع 7 “' النقاصد انی با نس من الا حا دیٹ ا پھر علی الالتیۃ۔ حدیٹ نر333 صفہ 255 داراککتاب العربی۔ الطعالاولی- روت

13

ف رر رر بب بر رر رض ضر ضر شر رر رر رم رر رر رر رر رر رت رر رک رر رک رک رر رک رر رک رر رر کر کر کت

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر

یس یی یکر دداعادیث پر یک ھی ماک

شَیْنَا هَا مُتا . فَقَال عِکْرِمَةُ وَاللّهِ لَینْ لم یُتَچُنی مِن الْبَحرِ إِلأً اخْلاسن لا هُتَچّینی فی الْبرِ غَْره اللّہْمٌ إِنَ لَكَ عَلَیٌ عَہٰدّا إِنْ اَنْتَ عَاقَیْقَني مِکا آتَا فِيهِ اُنْ آتی مُحَهَدًا ق8 حَق اَحمَع يَدِي فی يَدہ فَااْجِدَتَةُ عَفُوٌا گرِیما . فَجَاءَ فَأَسْلَمَ وَأما عَبْد الله بْنْ سَعدِ بن أَہي السٌزح فَِئَهُ اخْتبَاً عِنْدَ عُنْمَانَ بن عَقَانَ فُلَمَا دَعا رَشول اللِّ ا التّاسسَ إِل الْبَيْعَة جَاءَ بِه حَقٌ أَوْقَقَة عَلی التيٍ 85 قَال يَا شول اللہ بَایغ عَبْد الله . قَال فَرَفَع رَأَسَه فَتَظَر إِلَْهِ تَلانًا كَُ ذَلِكَ یَأَی فَبَايَحَةُ بَحد تَلابِ ثُم ايل لی أَصْحَايِهِ فَقال اما گان فِيکُم رَجُل رَشِيد یَقُوم إِلَ مَذّا حَیْث رآني گُفَفْٹ يَدي عَنْ بَيْحَيهِ فََقْلَة ". فَقَالو وَمَا بذْرينَا ا شول ال مَا نی تَشيِك هَلاًاَومَأتَ إَِيْنَا يك . قال " إِنَه لأَ مَنَْغي لِتَيٍ اَنْ یَكُونَ لَهُ خَاِتَةُ لن

ححقرت سع ‏ ککتے ہہ ںکہ ج بک کا کا دن آیاہ تو الد کے رسول مم نے لوگو ںکو امان دیء سو اۓ ار مرداور دو عورقول کے۔ اور فرمایا: یں تن کر ددہ اے تم انھیں تع کے پردے ست ٹاہ اپا۔ من اکمرمہ بن ال یجول عبد اط بن خطل ,من بن صبابہ اور عبد این سعد بن ال صرع۔ عبد الد بن شل اس وط کپ ڑآگیاجب دوکعبہ کے پردے سے چمٹاہو اتھا۔ صعید بن حریث اور تما جن یا را سکی طرف بڑ ھے۔ سعید مار سے سوقت نے گے ىہ زیادوجو ان تھے میس بن صباہہکولوگوں نے بازار ٹڈ پایالة تے ار قرو اگ ر) وسر گر مار ہ گیا آئ رعھی نے ا ےک کی نکشنی کے لوگوں ‏ ےکبا: سب لوگ نال ال دکو پچارد۔ اس کہ تبارے يہ متبو و ہیں یہاں پچ بھی فا دہ نی پچھاسکتے۔ حر مہ ن ےکہا: ا کی قعم:سحندر سے تھے الل کے سواکوگی نی بچاسکت۔ اے ائل یل مھ سے عہ کر اہو ںک اکر نے اس معحیبت سے با لے گا جس میں میں پضساہو اہوں نو یس مم خلا کے پاس جاقول گا۔ اور اپناپ تد ان کے پاتھ میں دے دوں گا اور مس ا کو ھہرپان اود والا پا ںگا- چنانچہ وہ آۓ اور اسلام قو لک لیا۔ ہا عبد ای بن الا صرح فذدہ نان بن عفان کے پاس جچ پگیا۔ جب رسول الد نے لوگو ںکو بیعت کے لے بلا اذ خثان ا کو ےکر آئے۔۔ اس اسے نیا اک رم سم کے پا ںکھٹراکر دیا۔ اور لائےء اے الد کے رسول ! عمپ الد سے بیجت نے میچیے آپ نے اپتا سم اٹھایااددا سکی طرف خین پار دیکھاہ ہر مرعبہ آپ انا رکررے حے۔_یان ین مرعہ کے بعد آپ نے اس سے بجعت لے پی۔ پچھر اپنے اپنے صحاب کی طرف متوجہ ہ ھکر فرایا: کیاتم می کوک ایک 2 کجعد ارنہ تھاجو ا سکی طر فآ ھکھٹراہ* جاجب بے ا کی بجعت سے اہناا تع مت دی ھاہکہ اسے فی مر دے۔لوگوں نے عرخ کی ءال کے رسول بی ںکیا معلو مک ہآپ کے ول می کیا ے؟ آپ نے ایق کھ سے ہمیں اشارہکیوں خی ںکر دی آپ تلم نے فربایا: سی می کے لے ہہ ماسب اور لاکن خی کہ و ہکچھیوں سے خلیہ اشثارہ کرے_ ۹7۷

اکر اس ردای تکو تار کی ردایات سے ال کر کے دیکھاجاتے وہہ فذمعلوم ہوا ےک آپ ما نے اس کے توف یکا عم د انم ام کی وج ہکیادا تی یہ شھ کہ این خط لک وپ نے ا سک یگمتتاخیو ںکی مز اد ؟ اس کے لے ہیں پچھھ جار ہنی ہك نکاجائکزولیناپڈڑےگا۔

عمبد ایر بن خل کے جو اللہ سے علامع این تبیہ اي ناب الصارم ا مسلول میں کت یں:_

“وکان جرم ابن خطل أنه أسلم وھاجر إلی ا مدینة وبعثه رسول الله قلَ ساعیا وبعث معه رجلا من خزاعة وکان یصنع طعامه وبخدمه فنزل نی مجمع فأمرہ أن یصنع لە طعاما ونام نصف اللہار فاستیقظ والخزاعي نائم ولم یصنع لە شیئا فاغتاظ عليه فضربه فلم یقلع عنه حق قتله فلما قتله قال: والله لیقتلنی مد بە إِن جثته فارتد عن الإسلام وساق ما أخذہ من الصدقة وھرب إلی مكة فقال لە اأھل مکة: ما ردك إلینا؟ قال لم أجد دینا خیرا من دینکم فأقام علی شرکه فکانت لە قینتان وکانتا فاسقتین وکان یقول الشعر یہجو فیه رسول الله قَل وبأمرھما تغنیان بە فیدخل عليه وعلی قینتیه امشرکون فیشربون الخمر وتغي القینتان بذلك الہجاءوکانت سارة مولاۃ عمرو بن ھاشم مغنیة نواحةة بمکة فیلقی علہا ھجاء

الدي قٍيَ فتغنی بە وکانت قد قدمت علىی رسول الله قٍإَ تطلب أن یصلہا وشکت الحاجة فقال رسول الله قل': ما کان لك فی غنائك ونیاحتك ما

واقعات پر ت ای حا ازعلامہ نمادم تین رضوی۔ صفح 1076104 دعا پیش لا ہور

14

72 کے ٤‏ مت ےر ٤ے‏ کے ےے ے ے صعصٗب ے ے ے ‏ ہے ےےےےےے کے ےےے ےے ‏ ےک کے صمصحےںمر_ے ۂ ے ‏ عًیےےےے ے ض ض ےی ص_ےے ےے ےےے ےے ے صکے ے ےت بے ہے ہے ےۂے ‏ ے ےے ے صکےےک,ے ےےے ے ے ہے ےمم لے ی۰ٌی۳ نک۱ےءےےےے کب ے - ےک ٠ص‏ زرۓءے_ے٤_ےمے‏ ہے مک ے سک ءٗکےےے ے ے ‏ تک ےت ئےے ‏ ےک ءےتکیے- مت کے ے کم

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ک ک ک ٍ2

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

یکفیك؟" فقالت: یا چد إِن قریشا منذ قتل من قتل مہم ببدر ترکوا استماع الغناء فوصلہا رسول الله وأوقر لہا بعیرا طعاما فرجعت إلی قرش وی علی دینہا فأمر بہا رسول الله قلٌ یوم الفتح أن تقتل فقتلت یومئذ.وأما القینتان فأمر رسول الله قإ بقتلہما فقتلت إحداھما أرنب أو قریبة وأما فرتنی فاستؤمن لہا حق آمنت وعاشت حق کسر ضلع من أضلاعہا زمن عثمان 42 فماتت فقضی فيه عثمان 9 ثمانیة آلاف درھم دیتہا وألفین تغلیظا للجرم“

"این نف لکاججرم رہ تھاکہ دو اسلام قو لکر لیاادر مدبی کی طرف بجر تکی۔رسول الل صلی ادذدعلی و سلم نے اسے 1یک محعمل کے طور پر حول زکوت کے لے کیا اور اس کے سا خزاح سے ایک فیس( علاءو مر شین کے زدریک یہ الیک مسلران خلام تھا کو بھی بھیاہ جھ ا کاکھاناتا کر جا اور ا کی خدم تکر تا تھا۔ جب دہ ایک ہبی اغہوں نے اسے عم دیاکہ اس کے ل ےکھاناتیا دکرےء پچھردہدوپہرکک سویار پا جب دہ جاگا تذخمز گی ور بات اور اس نے اس کے لے پھ تار خی سکیا تو بین خپل نے اس پر خص کیا اور اس پر اتا تشد دکیاکہ اد ےت یکر دیا۔ جب ددع گیا نے این خلت ےکھا: 'والٹر! اکر می والیں مری گیا نو مم (مَفَ) ان یت نے جن یرونج پچھر نے جو صدقہ لیاتھادہ ای کک اس ل ےک رک ہگماہ اود دہال اپنے اسلام سے متحرف ‏ وگیاء اور ابق مش رکاش عقائحد پر مقائم دبا انس کے پاش دولونڑیاں تھھیں جو بدکارتھیں این شل بچو پر نی شاعر یکر ما اور ان دونوں لونڈیوں سے دہ اشعا رگواتا تھا... ان دونوں لونڈیو ںکی مل میں ىہ اورکہ کے دوسرے مش کین شثائل ہوتے اور دہ پچوبہ اشعار گاجس اود شراب کے دور لت ۔''اور سارہ عمروبین پاش مکی لونڑی تھی اورک کی و ہکرنے والی خی ,جس میں 1 حضرت ماف پر چوگوئ یکر ی شی وہ 1 تحضرت ‏ لف کی عدمت میں حاضر ہوئی اور اپتی عاجت بیا نکی۔ حضور مم نے دریافت فرمایاہ ایا خہہاراگز ارانوحہ خوالی اد رگاناگانے سے پپورا یٹس فو سارون ےکہا: یا ھر! قرلیش جب سے در کے میبران شیل مارے گے جب سے ان میں سےکوکی بھی محفل خزاو صروومنعق فی ںکرما۔ ہیں 1 تحضرت مم نے اس کو ایک اوخٹ کے لاد کے با ہکھائنے پٹنے اور راشن عطافرمایا۔ ددو یں تق لی کک کی طر ف لوٹ اور اپ( کان دی پر ان ری۔"؟*

اسں حول ہکو دی ہکر محا مکح لکر سان ک1جا ا ےک این خط لکوسزاصرف باو ہگو کی اور جو مہ اشعا رلک ہکا پاداش می خی می بکلہ اس نے ایک مسلمان خلا مک ت٠‏ کیا ھا اور وای کہ چاکر دشمنان اسلام ج کہ ہ رگھرکی اسلام اور ریاست ریہ کے خلاف رییشہ داوازیوں یس مروف ر ےم لیا تھا گو یا اس کے بج ائمکی فہرست ٹیل غک یہ ہبیت المال کے اسباب وز ہکولوٹما اود اری یی بڑے جج ائم بھی موجو د تھے ورنہ ان دونوں مغفیہ عو رق ںکو بھی ہیاۓ اونٹ کے لاد برابر راشن کے موت نے یں ملق اور ان بش سے ایک سے نحضرت سی کی خعدرمت بی حاضرہونے سے پپیلےب یکوگی ا سکو موت کےگھاٹ امتار دبچا!!

سفن نسائی( جس سے علامہ موصوف نے حوالہ ٹیل مایا کات جمہ وفواد مروف ائل حربیث عالم حتزم حافظ شج اشن صاحب ت ےکیااود ا سکا بک روایات رشن دج رو لیم محتم زی علی گی صاحب ن کی اور نخان ء سیا تع اور افاضات حافط صلاحع الد بین لوسف صاحب ن ےکی۔ یجنی سفن نسائی کے جس تج ہکا جو الہ ذ یی یس دیاجا اے دہ جو ٹی کے ال حدیث علاءکی طرف سے شی کیاگیاہے۔ فریاتے ہیں:۔

اصارما سلول علی شاتم اکر سول جلد اول ص ح128

15

72 کے ست ب7 کے تح م1 ےت ۰ ی ]۱ف ٤ے‏ ے ے ‏ بے ے ےت ککےےےے ےے ےک ے ‏ ے ‏ ےےک۔کےےے ‏ ےے ےے ےےے ‏ ے ے ‏ ےےے ے یءے ےےکک ‏ ےت کت ہ>ےےےے ے ے ے ‏ ص کے ےط ےے ے ‏ ہے ے عم ے ے ے ے ے ےے ‏ ے ے ےت کے کے ےےے ‏ کے ک ‏ ےب ےےے ےے ےکک ےک ے کے کک کے ےے ے ےےے >ےکعکےےےےےےکےًےصےکےےکےت٠بےە-م‏ کے ے کم

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج2 ج2 ج2 2

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی کر دداعادیث پر ایک علمی ماک

"ار مردہ دو عور خی ”مجر روایات میس اور مر دو عو رت کا بھی کر ےء مخلا: و نی بن حرب اور مفصید و خی روہ البن کسی اور مرد اور عور کو فی یی سک اگیا۔ لن چاد مرداور دو عوربوں میں سے بھی تح کو معانی م لکگئی۔ ان چار مر دوں میں سے تین عب اوڈر بن خل, می بن صبابہ اور عبد الد جن ال صرح مسلمان ہ ھکر بعد میس مرج ہو گے تے۔ عبد ال بن الی صرح دوبارہ مسلمان ہو گئ اور حضرت ععثان ر شی ال تعالی ع کی سفارش پر ا نکو محائی ‏ لگئی_ عبد ال بن خفل اور میس بن صباپہ دوٹوں پ ‏ تن یکاجرم بھی خابت تھا۔ دوٹوں نے ایک ایک مسلمان ف٠‏ سکیا تھا اور پوا گک مہ گے اود م رت ہو گئے تھے ء لین اا نکو فنل اور ارت او کے جم میں غ٠‏ کرد گیا ۔ فیک وجہ سے ا نکومعاٹی کل سی ا

مولانا این صاح بک اس فک جع سے بھی بی معلوم ہو کہ ا نک وق لکی مزا کے ورپ رت یکیاگمیا۔

قا ری نکرام! آرھا کچ لیت وفع عمل بھوٹ ے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔اس ددایت سے اپقی مر شی کا ان لا لک اگیا اور غللط تش رت کر کے عوام الزا سکو اکسمایا جاتا ہے داستۃ عبد ادربین فطل کے کید اری اور یت المال کےما کی لو ٹکو چا اکر صر فکمتاقیکوسائے رک ھک می خاب تکیاجا ا ےکہ ا لک وف لکمتاٹ یکی وجہ سےکیاگیا!!

بی روایىت: علامہ کے ایک خطبہ سے الع کے ہندرچہ ذیلل الفاطا پر مسمقمل ایک پیر گر ا فککھامیاے جس ٹیل دو فرماتے ہیں:-

انیس غرزوات ہیں اور سذنلیس مسرایاہیں۔ ىہ چو بت رجنگییں تی ہیں ان می سکل صحابہ جو شی ہوے ا نکی تعد اد دو سو انسٹھ ہے یک 2 وت پر جنگ ڑیگئی ..۔ جنگ بمامہ حضور مل کی ختتم خبو کی خاطر لڑ یگئی _ مسیل کاب لیس بنرارکالکر ےکر آکیا۔۔۔پید سے حضور مکی اط جو نک لڑ گی ان میس پارو سو

سحابہ شمہیید ہے الن ٹیل سمات سو سے اوپرحافظ اور نقارکی سحابہ تھے ۔گمیاردبدریی صحابہ تے_۔۔ "0

اس مہ علامہنے چنگ با کو" نہو کی اط لڑکیگئی نک '' قرار دیا! یل یش ہم اس بات کا شتٹی چائز ویش س ےک ہکیاوا فی جنگ بمامہ عم خہوت کے لے لڑ یکئی؟

مسیلمہ از اب:

مسیل ہکانام مسیلمہ بن ٹمامہ ب نکر بن حجبیب ضف وا گی تھا اور امہ کے بی حفیضہ سے قیلہ سے تھا۔ ا لک یکنیت ابد ٹھامہ تھا۔ زمانہ جا ہیت ٹیل ا کور مان یمام کے نام سے جانا جات تھا !5 ام مصیلی کے نز ویک مسیل کی ولا وت ک1 حضرت مم 9- 00

مسیلرہ کے آ بحضرت مه کی خرمت میں حاضرہونے سے متحلق ادام ز ری ابقی شر فا کاب ''الاعلام می لککھت ہیں

من نماکی مت ریم ازحازی مر این_ جار ششم صفہ 5 شع اول 2012 دارامعلم می

ٹوا قوات سرت ال ی مل ازعلامہ نماوم بین رضوگی۔ صفحہ 123 دعا بیکش لا ہور

الاعلام۔ خر الد ین ز ری ء ‏ ے لد صفہ 236 دار امعلم ملا ین بربت-2002

ال وش الانف+ شر سرت ارکن ہشام از عبد ال من مھیلی۔ جلد ہ ضف 443 الطییدالادٰی-967 دار التپ الا سلامی-

16

کے ےک ے ےت ت٤‏ نےے ‏ ےک ے نے ےے کے ےے ےک ےے ظ ‏ م٠‏ فۂےے تے +-میىےےےےکی‌یںے کے ٤ے‏ ٤ے‏ صےیے_ےرےءے ے بب ےے کے ےے ‏ ے ے ےک بے سے ہے ٠‏ ے ےءےے ے ےے ‏ ے ےےےے ے ‏ ےےےے ‏ ہے ےت ت_۔دکے ے ےتک ے ‏ مےے ے ے ے ےے ءے فص ے ے ے سے ےے ےکک ے ‏ ےےے ہے ےےے کے ےے ‏ ے بے ےےے ےے ےت ے مت تم ەک-ت-ےک٠ھ٠ےتمکہ”مت”رے‏ ےک تککرے_ےے کے ے کلم

کاب واقعات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علی ماک

" جب آ تحضرت تف ےکلہ کیا اور عرب قال کہ پک خدمت میس ہے بعد دمچرے حاضرہونے کے نوہنو حزیض ہکا وف بھی آپ تفظ کی غعدمت می حاضر ہوا ۔کہاجاتا سےکہ مسیلمہ ای وفد جس آیا۔ اور قافلہ سے جچیے ءکلہ سے باہر نت پا سامان دغیبرہ رکھوایاگیا تھاوہیں ر کگیا۔ اس دفت دہکانی حیف ہو چکا تھا۔ وذر نے حضور ا کی خدمت یس اسلام قو لکیا۔ اود وفد کے اف ون حضور مم کومسیل ہکی آدکابھی بنایا۔ اس بر تضورنے وبی ناک مس کی طرف بطور پام یں جھ اس وف کو کین سیل سے ۷ حضرت مل کے ساق مناسرا مزا ہونے سے تح این ہشام ابقی سیر ت یس لیک اورردایت لا یں ء فرماتے یں :- رین کے لین علاء نے بقایاکہ ىہ (مسیل) بنو عذیضہ کے ساد اس عال میں آیاککہ اشہوں نے ا سک وکپڑڑوں سے ڈھانپاہو تھا 1 تحضرت مل اپنے خدام کے ساتھ تقریف فرما تے۔آپ خ ال سے پاتجھ ہی ں ججو رکی چیوئی سی شہنی شی اور اس ٹجنی پر مہو نے تے۔۔۔ اس نے 1 محضرت خا سے بتھ بات چمی تکیا۔ ال پھ تحضرت مفهظ نے فربایاء اکر فو یھ سے ہ ہنی بھی ماکے نومیسں تھے تہ دوں_ 54۷ اس روایت سے معلوم ہو تا ہ ےکلہ اس نے ایند عو تضور خلافی کے سان پیٹ یکی جس پر حضور لم نے ا لکوبہ جواب دیا۔ مین 9 جج رب یکو مسلمان مو رن و علراء الا تفاقی عام الوفود را دی یں ای سال کے آخ 10ھ کے شروش نو عزین ہکا وف ھی آیا۔ اس کے بعد مسیلمہ نے دعوے شبوم تکیا اس یارہ یس علامہ لتقولٰی نے ایا ار نئمسکواے 7 "اس(مسیلہ) نے اسلام تو لکیا تھا چھر 10 جج ری میس نبو تکادعوک اکر دیا۔ "تپ جب نو لیف ہکاوفد والی ںگیاےمسیلر نے حور فا کی خرمت اقد س یل خی کھھا۔ علامہ ز دی کے نز دیک ز رضح و یت سے وی مال سے زمر سش2 گيں_ 5٦‏ امام ری کے نزدریک یہ خطاججثرت کےگمیار ہو میں سال می سکک اگیا۔ آ* اس خی اکوعلام ژر نے ای کاب ''الاعلام "یس نف کیا سے کھت ہیں "من مسیلمة رسول الله إلی حچد رسول الله: آلا انی أوتیت الأٗمر معك فلك نصف الرض ولی نصفہا ولکن قریٍشاً قوم یخللمون''”

بی خی مسیلرہ رسول الل(أتوذ ہلل کی طرف سے مم رسول ال( ضف کی جن بککھاگیاہے۔ آپ پر سلا می ہو۔ خجردار ری ےکہ یل آپ کے ساتھ اھر خبوت میں ش کت دار ہوں۔آ می زین آ پک او رآ دھی می رىی سے ۔گمر لی الم لوگ ہیں۔ اس یر آنحضرت مك نے اس یکوچ ا بکیھا۔ اس خ کو علامہ بل ذدگیانے اپ مکتناب '' فو الہلر الع '' و و

"من محد رسول الله إلی مسیلمة الکذاب السلام علی من أتیع الہدیء أما بعدء إِنَ ال لِلَہ یرثا مَنْ يَشَاۂ مِنْ عِبَادِہ وَالْعَاقِيَةُلِلْمْتيِنَ'” الاعلام۔ خجر الد بین ز ریم ے لد مہ 226 دار الم لملا جین۔ بروت-2002 شس رت این ہشام جلد لصف 219 دار اککتاب الحرلی۔ بر وت 1990 شر مع الیعقتولی۔ مرجم علردوم۔ ص ‏ 206- نس اکیٹئی ارددبازار کر ای نجار جال عم واماوک, جلد 3 صن 146ءالاعلام۔ خر الدین زرکگی ء نے لد ضف 236 دار امعل عکملا جین۔ بروت-2002,ء تشجار نال عم واکماوک_ جلد 3 صن 142 الاعلام۔ خر الد ین زرکگیء نے لد صفہ 226 دار الم لملاجین۔ بر وت 2002 ٹف البلد انں۔ از علامہ بلاذرگی۔ ص٥‏ 129 مس الحاف_ للطباء وأ پر وت-1987

17

72 تک ض ‏ ے1 ے صے ےےککےےے ےم ےے کے صس ‏ ے ‏ ے ے ‏ تم ۃےے ے ٣٠‏ ےے ‏ ےت بے ے ے ‏ ے ےے ےک ہہ ےکے ےےے ے ‏ ے ص ے ہے ےب صے ےےکےے ‏ ے ےے بے سکع کتکےکےکےے ےکءےمے ےب کے ے ‏ ے ے ےے ےت ے ے >‏ ےک سے ے ‏ صے مےےے ے ے ےے ےے ‏ ےک ےمےےں_ءےء ٤ے‏ کے ے ‏ ےے کے >ےےےکے کے کے٠‏ ےے .ےک ہے ےےے ے ےےےے> >> کے > ےے - مم کے ے کم

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج2 ج2 ج2 2

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

یجنی ىہ خد مجر رسول اون ماا کی جانب سے مسیل ہک ا بک وکھھا جار پاہے۔ پر جدایی کی اتبا عکرنے وانے پر سلامقی ہو ز م۳ن ( ھی رکی قہاری نیس بل اڈ کی سے دہ اپے بنروں یل سے ج ںکوچاتاسے ا لکادارت بناتاہے۔ اور یک ایام تقو ککابی ہو تاے- علامہلیقولی نے ا کی ت کی جار ج12 ہچ ری گکھی اور ا سکی عمریو بت تل 0 1 سال تی_ 40 اس مندرج پالا شی سے خابت ہواکہ ٠‏ مسیل ہکانام مسیلمہ بن شامہہ نکب جن حجبیب تی وا سی ھا ٭ مسیل کی ولادت ٦‏ تحضرت فا کے والر ححخرت عبد ا کی پیدائش سے بھی قیل ہوگی۔ ٭. وائری کو مسلمان من رشن و علاء الا نفاقی عام الوفود تر اددٹٹنے ہیں ای سال کے آخ پا10 ھ کے شش روم یں نو یذ ہکاوف بھی آیا۔ ٭. 0 نر مس نبو تکادعوئ یکر دیا۔ ٭١‏ م10۰ ہچ ری میس مسیلمہ اور آپ مق کے در میان خط لنابت ہو گی ٭ بہ 12 جریم فی ہوا ا کی ع یوق ت فی 150سال تی۔ علامہ خادم رض کی صاحب فرمات ہیںء "تاس غزوات ہیں اور سا لیس س رایاہیں۔ یہ چو بن رجنگیں شی ہیں۔ ان می سکل صحابہ جو شبید ہو ے ا نکی تعد اددوسو انس ہے نگ بھامہ جو ختم غبوت پر جنگ لڑ یکئی ..-۔ جنگ امہ تضور ضا کی تم وت کی خاط رلڑ یکئی۔ مسیلہ رک اب چالیش بر ا رکالگر ےکر آگیا۔۔ پیدے حضورخ/ کی اط جو جک لڑ یگئی ان بی پاروسو صسحابہ ش+یلد ہہوئے۔ ان شی سمات سو سے اور حافظہ اور نظاریی سحابہہ تھے ۔گیارہبدریی صحابہ تے___ ۷" علامہ نادم رض وک صاحب اور ان یا جماعحت سے میرے چندسوالات: . علامہ او ان کے مریدرین سے می راپہلا سو ال ۷گ اس مد گی ہو تگمتتا خر سو لک وف کر نا تاض رورکی تاور خخ نبو کی لٹ اگ اتی اہی تکی حائل تھی نو یک وا از رد لکز بل زگ لآرےبح رم تمالا لبظزء ہو نا 2. علامہ اود اع کے عم ری بن سے عیبر ادوس راسوالی مسبلمہ الکنز اب کے دعوگیا کے بعد پچنہ الد دا کا مو شع آیاز اس مو تح پریٹرااروں جاں شاران نو تکمہ می مگ ے1 حضرت ما کی نقاریر وخطابات جن میس پ کے مارک اقو ال میں رس مکی ہدایت وافوار نظ ہت ہیں گر اس موق پر حضور حم نے تم وت کے پارہی شکیوں پچ غمی نکہا۔ آپ ما نے اپنے بعد کے فتنوں سے اگابی و یگمر اس 'سب سے بڑے نے ' کے متحلق خاموش شکیوں رے۔ کیوں نہ وہیں سے ایک لشنکر بھام ہکی طرف پیا اکہ اس فت کی س کول ہوثی؟ 3 این خلمدون اپتقی جار نی سککت ہیں.

مار ال یتقولی۔ مت ریم جلد دوم۔ ص ح۰206 08ں اکیڈ یی ارددبازار گر اق وا قوات سرت انی مم ازعلامہ ماوم مین رضوی صفحہ 123 دعاپایاشت رن لا ہور

18

72 کے ٤‏ مت ےر ٤ے‏ کے ےے ے ے صعصٗب ے ے ے ‏ ہے ےےےےےے کے ےےے ےے ‏ ےک کے صمصحےںمر_ے ۂ ے ‏ عًیےےےے ے ض ض ےی ص_ےے ےے ےےے ےے ے صکے ے ےت بے ہے ہے ےۂے ‏ ے ےے ے صکےےک,ے ےےے ے ے ہے ےمم لے ی۰ٌی۳ نک۱ےءےےےے کب ے - ےک ٠ص‏ زرۓءے_ے٤_ےمے‏ ہے مک ے سک ءٗکےےے ے ے ‏ تک ےت ئےے ‏ ےک ءےتکیے- مت کے ے کم

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ک کک ک

کاب واقعات سرت اتی طف ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر یک عی ماک "خری زی الہ 1 تحضر مم الوداع)ڑے ینہ دایل آئے۔ ما کور مک کے حرم کے مہینہ ٹس آپ نے بلاد ام پر جہادکی تیار یکا عم دیا۔ اور ان اہن پر اسان زی بن حار ٹکو امیر مقر ف رکم یہ اداد فرمایاکہ 'بلقاءددارو مکی طرف ے ارو تک یا ارٹش فسٹین میں شام کے بلاوش فان ذف کی چہادکرن یہام کک دواسلام لایں پاعط ہو چاگیں۔ '' اس شک میں مہاجہبن اشن اوربڑے بڑے تلیل القد ر صحاہہکور و اگ یکا عم د کیل ۷ ۹2 اس مر یک ابھی تکا ان ازاکتب سرت وجار سے تن لگا جاسکتا سے ء حضرت ال بر ضی الڈد عنہ کے دہالفاظ یا دک میں مجن میں آپ نے فرمایاہ'اگر بے اس اھ رکا خوف ہو ہ کہ مے مین می سلکوگی در ندہ اکر پھاڑ ڈالے گا یاکوئی یجھے لوٹ نے جات ےگا بھی میں اسام ہکوروان ہک ج کس کے منہ میس داخت ہیں جو رسول للدم کے ارشاد کے خلا فکرے جج سکودہ مقر رک جائیںء ا ںکو مو تو فکرے۔ بی ج بکک اسام ہکوردانہ نک رلوں ہ رگ ای کلظظہ قراردپاؤںگا_ علامہ اور الع کے ین ے مر تیر اسوالء اکر جنگ پمامہ (جیماکہ مولاناڑے شم وت کے لے لڑی جانے والی جنگ تمرار ہے ہیں) اتی ضروری شی اورا نے تلیم الشان مقصد کے لج تھی فذیہ ریہ اسامۃ جن زید سے پل کیوں نہ لڑ یگ ؟ 4 مفقی زین الحابدرین سیادمی شی اور ملق اتظام الد شہالی نے اپتی تار جار مت" میس حضرت اا وجر صلی رضی اللہ عشہ کے دور خلافت کے اوائل میں لڑی جانے وی ہو ںکی وج جا تلھی ہیں آپ فرباتے ہیں "1۔ اسلام سے پپیلے حر بگگڑییوں جس بے ہہوۓے تے۔ اسلام نے ا نککڑیو ںکوم کر ایک مت بنادیا مم کہ دہ بر سہابر س سے اس کے عادی نہ تے اس لے انہوں نے "اس فظھام می کو انی آزادی کے لئ ایک ز تج ر سمچھاور سے فو کر پکل ھا ےکی کک رکر نے گے۔2. تق رآ نکر یم نے حکوصت اسلا ہی کے شعبہ مابیات کے لے زکو کو بذیاد شب ایا کو اسلام کے اصمولل کے مطابقی امیبروں سے کی جائی ہے اور خر یوں پر صر فک انی سے اور ا سک مقصید قوم یس دوات کے و از کو تقر ار رککنا ہے گر اسے بھی میک ہار چچھاگیاادد اس با کو اتا کر یی ک یکو شش لک جان ےگگی۔ شر اب ع ریو ںک یگٹی می پڑی ہو گی شی جو ا نکادل پپن دکھیل خھاادر زنا ایک مم رخحوب تف رت اسلام کے تقانون نے الن سب بر ائیول پر رکڑی بنرشمیں 2 درس ج ان لوگوں رگ ا ںگزریں_ ٣'۷‏ الن وج بات سے ولا ےککہ اس وقت محاملہ تم خبو تکا پا مسیل ہک اب کے مھوئے دع و اۓ خبو تکا نی بلنہ الا ہی راس تکی رٹ اور اجائی نشم ون کا تھا مولانا اور اع کے تین سے می را اچ ھاسوالءحضرت ال وھجر صد لق ر ضی اللہ عنہ نے اتی مارک خلاف تکا آغاز اس 'بذیادیی اور اساسی متتلہ کو ح لکرنے کے لے یمام ہکو تہہ من کمرنے سےکیوںل نہ پا؟ یہ جوں بی لفگر اسامہ رضی الڈر عنہ مو ظفرسیٹ کر وائہ ںآ ماق حضرت اب ھجک صدر لی ر شی الد عنہ نے ا عکو ربیعہ یس اپنا قائم متقام مقر کیا اورخود حور اٹھا کم میس اور ذ بیاان ق انل کے مقابلہ کے لے تقر یف نے گے اور فرمایاء ' دای عم! اگ رکوئی ای ک بر یکابیہ دی ےکی جورسول اللہ خأظ کو دیاجاتا الا کر ےگان ٹس اس کے خلا ف بھی چہا دکرو ںگا_ ''

ضجار زاین خلرونءحصہ اول۔ صفحی 166 نس اکیٹھی۔ اردوہاذار_- ای2003 تار من این غلرونء حصہ اول۔ صفحہ 166 نیس اکیل ھی۔ ارد پازاد کر ایی 2003 مار مت از ملق زین العاب رین چادی م شھی اور متام ای شہاٹی۔ جلد اول صمخ 170:169 ادارہاسلامیات۔ انا گی ءلاہور 1991

19

کے ٤‏ مت ےر ٤ے‏ کے ےے ے ے صعصٗب ے ے ے ‏ ہے ےےےےےے کے ےےے ےے ‏ ےک کے صمصحےںمر_ے ۂ ے ‏ عًیےےےے ے ض ض ےی ص_ےے ےے ےےے ےے ے صکے ے ےت بے ہے ہے ےۂے ‏ ے ےے ے صکےےک,ے ےےے ے ے ہے ےمم لے ی۰ٌی۳ نک۱ےءےےےے کب ے - ےک ٠ص‏ زرۓءے_ے٤_ےمے‏ ہے مک ے سک ءٗکےےے ے ے ‏ تک ےت ئےے ‏ ےک ءےتکیے- مت کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر

می شی کر دواعادبیٹ پر ایک عھی ماکمہ

مولانا او ان کے تین سے می را پا نچ اں سوال +صد بی مکبرنے جیا منررجہ پالا نٹرہ کے اورہاۓ میس اور ذبیان جانے کے نا ختم بو تکاترہل اکر یمام ہکا قص دکیوں ھی ںکیا؟

خلاصہ اس سب بح ثکا ہی ےکہ معاملہ ضحم نبوت کے لے لڑکی جانے والی جننک '' کا نی بلنہ اسسلائی ر اس تکی رٹ٠‏ اگ نشم وص اور او اسلائی رات کے تحت ر نے والی لم اور غی رس لم رعایاکے عق کا تھا!!!

انی روایت

علامہ خمادم جن رضوکی صاحب ایک خطاب میں فرمات ہیں مج سکو ال سکاب میں در عکیاگیاےء

حضور مكم نے اپقی ختم خبو تکی خودگواہی دمی۔ اع ححفرت بریلوٹی نے ککھا ےہ حضور حم نے نرایا: "اتی اشھدُ عددِ تراب الدنیا انٌّ مسیلمة کذاب" مسیل ہکذاب وو ہے جس نے حضور مه کی ظاہری حیات می لوا سک یکہ میس بھی نی ہوں۔ اب ذراسنو! اس کے بعد مسلران ول اکنا چا بنا ےک حضور خلا کیے آخ رک نی ہیں ءاب میرے آ اد مواا خفم نے انی ختم نو ٹک یگواہ یکیسے دی ؟ حضور ملا نے فربایا: دنیائیس جشٹی می ہے ا می می فو ںکی تحعد ا کے برابر میں خود گو ای دیتاہو لک میرے بح دکسی نی نے خھیں کیا۔65۷

ہا ل تک ال حدیث'' ابی اَفْهَدُ عَنَد تُراب الْدُّنَْا ان مُسَيْلَمَةَ کاب کا تق سے تو تو علاۓ حدیش نے ات کنب (نعھم ایی ءکنزالحمال اور الاصابد خی رہ)شل بیا نک ہے ۔گگ علامہ نے ال لککا تجح ہکرتے ہو ایک جعلہ ایی طرف سے بڑھادیاہے۔ مہ شا ند اپنے ذائی مق کو حدبیث می داخ لکرن ےکی خر سے تھایا شا ند جو خطابت ٹس اما رزدہ گیا ۔ک وککہ حدیث کے ج بی الفاظ یش 'میرے بععدکسی نی نے نمی س کن موچھ و یں ے !!!

مولانااور ان کے یتین سے مرا اچٹاسالءاس حریث میں مسیل ہکاکذ اب ہو نال شابت ہو ا ےگ یہ سے مثاہت ہو وگیالہ آپ کے بع کسی نی نے نہیں 7نا

واقوات سرت الٔی ضظْ ازعلامہ خادم مین رضویی۔ صفحہ 206 دعا لیکشت لا ہور

20

ےںر_ب_ے ے تی عے٤ےۂےےک‏ ے ےم _ےے ‏ ےے سے تً۔یءمءے ٠٤ےے‏ سے ےے ‏ ے ےک سک ے ے ے ‏ ےے ے ےے ے ے ‏ ١ے‏ ے٤‏ ے ے ے ے ے ے ص ے ‏ ءےءےے ےے ‏ ے ے ےت +٠‏ فک ری ےے ‏ ےےے ‏ ےےےے ے ۔ےعے ے ےےےے ے ‏ ے ‏ ے ‏ ے ۰ے سےےءےءےءےےےے ص ےے بے تب _ۂےبے ے ے ےت سے ےی ے٤‏ کم ےت ے ےم ءمء_ءےے ےکک ےک ےی ے ےتک ے_ےٌعےکت ‏ - ے یکصےۂم ء _ےےءۂ ے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

آٹھو یل روایت علامہ خمادم جنر ض ودک صاحب ایک خطاب می ایک اور ردای تکا جو الہ دیے ہوئے فرمات ہیں جم سکو ا سکاب میس در جکیاگیاےء میرے آتاومولا مج سگمد سے پر سوار ہوتے تے ا سک نام تولیعفور_ حضور مل نے فرماا تی کی نسل یل ہگ ۔گمد ھھ نے آکے سے مہ با تکیا شس میبدد کی یش یت تھاائس نے ہترار ہار مج پ ہکو شش لکی سوار ہو ےکی ءابھیکیک وہ حضور مم کے درہار میس کآیاہی نیہ ا سک وف نے بتایاکہ حضور خلا خی نی ہیں ب ہمد اکتاے نے ہربار اس ےگ ادیا۔ یش ےکہامی ری پشت پر خاتم مین لف سوارہوں گ _ "66۷ ما فتح الله علی نبیه خیبر اصابيه من سھمه اربعة ازواج نعال و اربعة ازواج خفاف و عشرۃ اواق ذھب و فضة و حمار اسود فقال للحمار ما اسمک قال یزید بن شھاب اخرج الله من ظھر جدی ستین حمارا کلھم لم یرکبه ال نی ولم یبق من نسل جدی غیری ولا من الانبیاء غیرک وقد کنت قبلک لرجل من الیھود و کنت اعثر بە عمدا وکان یجیع بطی و یضرب ظھری فقال قد سمیتک یعفور قال اتشتھی الاتان قال لا وکان یبعث به ا ی باب الرجل فیأتی الباب فیقرعه برأسه فاذا خرج اليه صاحب الدار اوماً اليه ان اجب رسول الله قش فلما قبض النی قَلَ جاء ا ی بئر کانت لاہی الھیٹم بن التیھان فتردی فیھا جڑعا۔"'“ جب ال تعالی نے اپنے ن یکو خیب رکی ما صیب فرماکی نے حضور کے جے ٹیس بل کے ار جوڑے موزوں کے ار جوڑے اود دس اوہ سوناچاندگی اور ای ککا اگ دحا آیاء ور ١‏ ےے مد ھے سے کو چا اہ تر انام کے ؟ہگمد ھھے نے ج اب دی اہ یز یملع شاب الد نتھالی نے مر ے داد ای بپشت سے سا ھ رد ھھ پیید اکیے ان سب پر صصرف انیا نے سواریی گیا ہے ء اب ا نکی مل میں سے میرے سو اکوگی باقی ٹیس ہےء اود نہ اخیاء یش سے آپ کے سو اوک باقی ہے اود یش آپ سے پیل ایک یبد کے پاش تھء اود ٹس مان بو چ ےکر ا نک وگ ادا تھاء اور وھ بھوکا رکا اد مار اء آپ انے فرمااکہ می نے تی انام فور رکھاءچ رپ انے پ چاک ہکیاگ دح کی خوائل ہے؟ اس ن ےکہاغنیںء حضمور ا سک سی آد ہی کے دروازے پر (بلانے کے واسلے) چھی ارت وو دروازے کے پا سآ اکر سرے ورواز لھا ج بگھ م کا الک باہ رآ تا اشار ہکم ہ کہ رسول اللہ اکے پا پچ جب رسول ال کااظقال ہ گیا تذمیقرارگی شٹل ابو الہیڈم بن التیہان ک ےکنویں مم لگ پڑا۔

٭×۷ اس حدریت سے متحلق علامہ این بات ان فرماتے ہیں :-

'"ھذا حدیث لا اصل لە۔ و اسنادہ لیس بشئ: لا یجوز الاحتجاج بھذا الشٍ'''“

اس حد بی کیاکی شض مک کوک اصل نی نہ دی ا کی سند اھ حیثیت رمق ہے۔ اس راوی سے اتد لا لکرنابھی جائز نہیں

٠‏ امام ان جو زی ای کا بکاب امو ضوعات ٹیس اس حدی ٹک مل بیا نکر کے اپ اپنا تج رہ فرمات ہیں ہکا

'هٰذا حدیث موضوع فلعن الله واضعه فانه لم یقصد الا القدح ف الاسلام والاستھزاء بہ_ "'

شیب حدیث موضوں ہے ء اس حدیث ک ےھر نے والے پر ای کی لعت ہو یقباً ا ںکا مقر اسلام میں عیب ید اکر نااور ا تجز ا کانشانہ بنانے_

٭ حافظط ارکن تج رعسقلا لی اس حدری ٹکو الو منظور کے تر جمہ میں بی نگھرتے ہو ےلیھت ہیں

واقیات سرت الیم از علامہ نمادم تین رضوبی۔ صخحہ 228 دعاپیشٹر لاہور

النذا تمریف حوق ۱| ہو بات فی ضروب الحیو اناتں۔ ص 385 الطعدالاوثی۔ 13 20۔ وحدۃالبحوت والد راسمات_ المکۃ تح ۃ الع 5 تاب الجرو ین صن الید شین۔ جلد دوم۔ صفہ 328 ترجہ می 1014 وار میتی للنش ولتوز بج _ المکیۃالع یی" السحودیےد 2000

تکتاب الموضوحات_ جلد اول صفیہ 94د الناشر مر عبر ا سمل _ صاحب الیکتیۃا فی پالم رین اھتورۃ-1966

21

ےںر_ب_ے ے تی عے٤ےۂےےک‏ ے ےم _ےے ‏ ےے سے تً۔یءمءے ٠٤ےے‏ سے ےے ‏ ے ےک سک ے ے ے ‏ ےے ے ےے ے ے ‏ ١ے‏ ے٤‏ ے ے ے ے ے ے ص ے ‏ ءےءےے ےے ‏ ے ے ےت +٠‏ فک ری ےے ‏ ےےے ‏ ےےےے ے ۔ےعے ے ےےےے ے ‏ ے ‏ ے ‏ ے ۰ے سےےءےءےءےےےے ص ےے بے تب _ۂےبے ے ے ےت سے ےی ے٤‏ کم ےت ے ےم ءمء_ءےے ےکک ےک ےی ے ےتک ے_ےٌعےکت ‏ - ے یکصےۂم ء _ےےءۂ ے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر می شی کر دواعادیٹ پر ایک عھی ماکمہ 'هٰذا حدیث منکر جداً اسناداً و متناً لا احل لاحد ان یرویه عی الا مع کلامی عليه ۔"'

ابو مو کیانے ان کی تخ کی او رکہایہ حدیث سن کے اعتار سے بھی اور من کے اختبار سے بھی خفت مر ہے ۔کسی کے لے می چا خی لک دہ اس دی ٹکو میہرے ال

تیھرہ کے بغی رم انام نےکر بیا نککڑے۔

٭. ام جلا الدین الیلد شی اس حدی کوا یت کاب اللالی المصنوع فی الاحادیث الموضوعاۃ یس موضوع(م نع کحثرزت) قراردتے ہیں۔ 7

٭ علامہ ناص الد بین الپائی گگ ال حدی ٹک اي کاب سلسلة احادیث الضعیفة والملوضوعة و اثرما السئ فی ال٦م‏ میں موضوع(مٴ نگھزۓ) قرار

دی ہیں“ مولانا اور اع کے تین سے مر اساتؤں سوالءاول و علا ۓ ایل و می شی نکر ام اس روایت کے اصل, موضوخ, پال اود م٢‏ نحھڑ ت کے ہیں ۔گ ھپ نے اس موضوع روایت ٹیل بھی تح بی فکر کے اس میں "می رى پشت پر نام :مین ٣ل‏ سوار ہوں گۓ " کے الفاظ شا لک دی ۔کیاہمارے آ تا موا ما کو ان مم نگھثرت بے بذیاد اور نے صن جو نی ادا دا تی مددے ای تین , تیم تین او رحمل ترین نی خاب تکیا جا سکتا سے ؟ مولانا اور ان کے تین سے می را ا آنٹھواں سوالء این جو زی رن ایند علیہ کے نزدیک ا کو وش کرنے وانے پر ال کی لت ب کیو کیہ ایس کے اس تل سے اسلا ما از اء ہو سے علامہ کیا آپ برردایت مان مر کے دانستہ یاغیر وانستہ اس لععنت ے حصہ یں نے رے؟ ول روایت لامہ یادم مین رضوئی صاحب کے خخلبہ بیس سے ایک حدیث ا ںکتاب کے صمفح 232 پر در جک کی ہے۔ ا لکاعنوان ہے ''ا نکی یں '' علامہ فراتے ہیی ''حضرت

ام امن نے حضور حا کا شاب مبارک پا لیا۔ مع صحایہ نے لو چھاائی صابہ آ پکو تہ نی سک ؟ آپ نے تضو رکا پاب مبارک پا لیاءفرایامیرے محبوب کے تلامو! بے کبجہ نی کی اس میں خوشیو ای بھی _ "73 با نکر دہ حدیث کے الفاظ وت جم ہہ ول یں- ”عن أم أیمنء قالت: قام رسول الله صلی الله عليه وسلم من اللیل إلی فخارة فی جانب البیت فبال فہا فقمت من اللیل٠‏ وأنا عطشانة فشربت ما فیہاء وأنا لا شعر فلما أصبح النی صلى الله عليه وسلم قال: یا أم أیمنء قومی فأمریقی ما فی تلک الفخارۃ قلت: قد والله شربت ما فہاء فضحک رسول الله صلی الله عليه وسلم حق بدت نواجذہء ثم قال: أما إتک لا تتجعین بطنک أَِدّا۔''“

"ال صابیۃنی تییزاضصحابد۔ صفحہ 1775ء تجمہ نمبر10660۔ الکتبۃالتصریت بروت-2012

اللاکی امصنوعدنی الاحادریث ا موضوحۃ ءکتاب المنا قب جلد ال ٥ہ‏ 276 دار حرف بر دت۔ لبڑان۔-2000

2 سلہل ااریٹ العیزدوال وضوو۔دو اتڑجا| پر ٹہ مخ 678 حدریث نمبر5405۔ مکتبتۃ امعارف۔ ال یاضل-1992 ۔آواقوات سرت النی مل ازعلامہ غادم تین رضوبی۔ صفحہ 232 دعا بیکش لا ہور

کی ملط انی جلد ےو صفھہ 9089 ککتبنۃ ای ن تی"القا:

22

یب ٤ۂت۱٢ےءے‏ ے تی بمممفو ۔ ض صے ےے ے لے کے ے٤٤‏ ےھ ب_ ےءےۂ ےت تب یٹ ٹیم ٔک‌ےرے ے ے ص۱ًمےےے ےے ے ےت ے متںدے _ ے ے ے ے ے ‏ ے >> کے ےک ء ےے ےے ےک م+.ععے ۰ ے ے ے ے ‏ ےے ےے ے ےک ےے کے کے ے ‏ صےےے ےےےے ‏ ےے ےے ےے کے ے ے ےےے ےک کک ک ےک ےے ےے تک کے ے ےےےء ے یےےےکع.۔ح ےیےءءےےک تیے کک کصےےی ےة ے ‏ ے ےم >ےےےےےے بک ے ‏ کے ےءةے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر یک ھی ماک ام این سے دوایت ہے ء و ٥کہٹی‏ یں ر ول الد الیک رات اھ او رگھ کیا ایک جانب پیانے ٹیل پیا بکیاء ای رات یں پیا سکیا شرت کے ساتھ شی اور پیالہ ٹس جو تھائٹش نے پیا لماادر یش مان نہ گی ۔ می وی نون یکریم ضاظم نے فرمایاہ اے ام امن اھ اور پیالے ٹیل جو ہے اسے بہادد ٹیس نے عمرخ سکیا۔ ان دکی حم پیانے میس جو تادو یش نے ل لیا دہکبتی ہی ںکہآپ ا مس ائے ییہا ںک کک داشت مبارک ظاہر ہو گے اود فرمایاہ خمردار ‏ بے تک اب رج کے بعلد بھی اپنے ہیں ٹل ار ن پااگی۔"' مند رجہ بالاردایت ٹیل ا سکتاب ٹیل سن دکو( چم عذ فکیاگیا۔ اس لے ا سکیاسند یہاں در حگک ناضروری ے- "حدثنا الحسین بن اسحاق التستری ثنا عثمان بن اہی شیبة ثنا شبابة بن سوار حدثی ابو مالک التخعی عن الاسود بن قیس عن نبیح العنزی عن ام ایمن۔۔۔"” اس روایت ٹل ایک رای ج نکا نام ابو مالک ای سے ضیف ہیں۔ ناخ ٠‏ ای نجخم اکب للطبرا یکی تن ری عبد لج ید امسلئ ین ےکا ہے۔ آپ اس حدیث کے عاشیہ مم لکھتت ہیں۔ 'اسی(ردایت )یل الو مالک | تی ضیںوں_ ٭76 می ردایت ایک اور سند سے گی بیا نک انی ہے۔ شس کے بارہ یس موج دہ دور کے یھ علماء کے ہی کہ ا لک مہ سند قائل میشن ہے۔ یہ سند حضرت امام عسقلالٰ ابق مامہ نا زکناب'' الاصابعد ی قییزااصحابت"' می سکیھعتے ہیں ''و اخرج ابن السكنِ من طریق عبدا ملک بن حصین عن نافع بن عطاء عن الولید عبدالرحمن عن ام ایمن۔۔۔"' ىہ روای کک کے بعد فرماتے ہیں :- اکن ےک یہ وا ہکوئی اور ہو مکی وکنہ اتی ایک واقعہ حخرت برک (حضرت ام حویب ر شی ال عخھاکی خاو) سے بھی مفسوب ہے۔ اع سے مطسوب یہ واقعہ ھم پان کے ذکر مس بیا نکر کے ہیں۔ این سک ن کاب د کیا ےک برک (خادمہ ام عیب ) کیکنیت بجی ام این شھی۔ ہے عم صرف ایدحی کے پا ے۔" ٭آ اس سے معلوم ہو کہ اس واقع ہکی جع سن بھی اشتبا وکا شکار ہے ج سکاذک رام عسقلان نے اق کتاب می سکیا! ای اشتبا کا کر انل الو کی شر ٹیس علامہ زر قائی ن پچ یکیاہ فرماتے ہیں:- صحح ابن دحیة انھما قصتان وقعتا لامراتین و قد وضح برکة ام یوسف غیر بركکة ام ایمن۔”ٴ یی ا سکی خححیقی ما گی ازع دخ ےیک کرک یکین وذداقعات دد طقف خو ان کے سماظ ہو نے اؤوز لئ خی نے بی گی وا شا ایک اخ اوست اورئژن اورک ام ائان

اورغالونں-

"چم اک رملط ‏ انی جلد 25 صفمہ 90:89 ۔ تید ای ن تب القاعة

؟ تخم اک ملط انی جللد 90۔ کت ای ن تی القاعرة

7 صابعِنی تیزااصحا بت“ صمہ 983 1 تجمہ بر 11945 الحکتن لحصرتبرت-2012 ٭ الاصابیۃنی تی ااصماب“ مہ 983 1 ترجہ بر 11945 الحکتہ لصرت برت-2012 ”شر العلامہۃزر قا یع مو اھب الل ریہ جلد ہ صفیہ 550 دار اکب الطللی۔ روت۔1996

23

یب ٤ۂت۱٢ےءے‏ ے تی بمممفو ۔ ض صے ےے ے لے کے ے٤٤‏ ےھ ب_ ےءےۂ ےت تب یٹ ٹیم ٔک‌ےرے ے ے ص۱ًمےےے ےے ے ےت ے متںدے _ ے ے ے ے ے ‏ ے >> کے ےک ء ےے ےے ےک م+.ععے ۰ ے ے ے ے ‏ ےے ےے ے ےک ےے کے کے ے ‏ صےےے ےےےے ‏ ےے ےے ےے کے ے ے ےےے ےک کک ک ےک ےے ےے تک کے ے ےےےء ے یےےےکع.۔ح ےیےءءےےک تیے کک کصےےی ےة ے ‏ ے ےم >ےےےےےے بک ے ‏ کے ےءةے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبدا مٹیم اج فاضل ع بی۔ ربص رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

اس روای کی سن ہکو جس انداز سے بھی دکاھیں نو وام رین سیر حرت اقرس مھ مصطفی ای محخصیت اور سنت طاہر ہکو دس کر طبیجحت اس روای کو شیں ماف کی کہ ول ویر اڑکی حاجات میس 1 تحضرت ماف کا اسم فوع اعادیث میں بتکریرداردہواے_ خلا حدثنا عبد الله بن مسلمة بن قعنب القعنيء حدثنا عبد العزیز یعني ابن حدء عن جحد یعني ابن عمروء عن اہي سلمةء عن ا مغیرۃ بن شعبةء "ان الني قَ کان إذا ذھب المذھب ابع“ می وین شعبہ ر شی الل عن ہے ہی کہ نی اکرم صلی الطدعلیہ وسلم جب تضائے عاجتلم]فی شاب اور باغانہ) کے لیے جات ذدور تش ریف نے جاتے تے۔ اعاديیث اس با تکو ھی بیا نکر کی بی ںک کننادور جاتے ے_ حدثنا ابو بکر بن اہي شیبة ء حدثنا عبید الله بن مومی ء انبانا إسماعیل بن عبد ا ملك ء عن اہي الزبیر ء عن جابر ء قال: خرجنا مع رسول الله ا فی سفر, وکان رسول الله قل" لا یاتي البراز حقی یتغیب فلا یری۔'“ جابرر شی الد عنہ کے ہی ںکہ بم رسول اوقد صی ادڈدعلیہ وسلم کے ساد ایک سفر میس مکل ء آپ صلی ایند علیہ وسلم قضاے عاجت کے لیے اس وف تکک نہ بی ج بک ک کہ نظروں ے او کل نہ ہو جاتے- صولانااور ان ے تھے پر افواں سوالء انا ایک می داقعہ ازفا دو ملف خو ا ین جن نک نام انفا ا نیک بی تھا فی کہ کیا انف جات کی اس ان سے ال روای تکا جن ات ہوناٹاے؟ مولانا اور ان کے تین سے مرا دسواں سوالءاس حریث کے جح یا ضحیف ہون کی ب ٹکو پچھوڑ بھی دیا جا جب بھی ععابہ نے و بچھاماکی صاحبہ آ پک و بجہ نہیں گ؟ آپ نے حضو رک پاب مبارک پا لیاء فرمایامیرے عحبوب کے فلا مو ! چیہ ببجہ خی ںکگی اس میں و جمبد ا تخی تھی '' کے الفاظ آپ نے مس دوایت سے لے کی کہ آپ نے بی ددایت اک کاب کے صفحہ 278 پر در فرمائی ہےء اور زر ای جلد 5 صفجہ 549 کاح الہ داے۔ اگ زر قاٹ یکودیکھاجاے وہ معلوم ہوجا ےک الفاظ 'لطیب راحتہ' کے الفاظط ام این کے نی بللہ شارح کے ہیں2 یہال بھی آپ ن ےممدرردایت ٹیل تح را فکی!! دس ول روایت علامہ یادم مین ر ضوبی صاح بک ایک تق یر سے ایک اققیاس ا سکاب ٹیل دیاگیاے ءا سک نوع سے ''دماکی تولیت وا لن ےکرات '' علامہ فرماے یںء ال یکنا گے س ےگزدر اہ ےہ تیرے نی کے نماز ات پڑھاتے انس سے پیل کہم کن ای دائیں بائیں مو این ن یکا ما نکی تفاظ تک رہ ا لکو ہر بادکمہ دےء ان کو لاک کک دے کا ھی کے آ کے ےگمزرے اب ہگو اران ک۷رمیں__۔ "3

رین آیے اس حدی ٹکی “حم تکامعیار جا مت ہیں٠‏ اس ردایت کے الفاظ نہ بیوں ہیںء

سن ابدداؤد تاب الطہارء باب | کی عند قد اتہر تر میٹ 1

امن این ماج کتاب الضھار ہوسا .22 بلب 7١٦‏ مدتراز اناو رت اللدیٹ 335 ٘شر العطا ریہ زر ای لی مو اھب اللرجیدء جلد ‏ صفہ 549 دار اكکپ العلیید بروت-1996 ش٭واقات سرت الٹی مق از علامہ نمادم ین رضوبی صخحہ 265 دعاپیکجٹر لاہور

24

کے ست ب7 کے تح م1 ےت ۰ ی ]۱ف ٤ے‏ ے ے ‏ بے ے ےت ککےےےے ےے ےک ے ‏ ے ‏ ےےک۔کےےے ‏ ےے ےے ےےے ‏ ے ے ‏ ےےے ے یءے ےےکک ‏ ےت کت ہ>ےےےے ے ے ے ‏ ص کے ےط ےے ے ‏ ہے ے عم ے ے ے ے ے ےے ‏ ے ے ےت کے کے ےےے ‏ کے ک ‏ ےب ےےے ےے ےکک ےک ے کے کک کے ےے ے ےےے >ےکعکےےےےےےکےًےصےکےےکےت٠بےە-م‏ کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر

یس یی یکر دداعادیث پر یک ھی ماک

"وعن ابن عمر قال: سمعت رسول الله قل یوم الجمعة وصلى بالناس العصر وھو قاعد فی الرکعتین الأولیین فمر کلب لیقطع عليه صلاتهء فأ٘شفق أن یمر عليه فدعا سعد بن أہي وقاص علی الکلب فأھلکه الله بقدرتهء فلما فرغ الني قَلےْ من صلاته نظر إلی الکلب قد هلك قال: "من الداعي منکم علی هھذا الکلب؟'' فلم یتکلم أحدء فأعاد الني قٍيةُ فقال سعد عند ذلك: أنا الداعي یا رسول الله بأہي أنت وأمي. أشفقت أن یقطع عليك صلاتك فدعوت عليهء فقال لە الني قَل: ''کیف دعوت عليه یا سعد؟'"'۔ فقال سعد: سبحانك لا إله إلا أنت یا ذا الجلال وال٦اکرام‏ أهلك ھذا الکلب قبل أن یقطع علی نبيك صلاتهھ. فقال ني الله ق: "یا سعد لقد دعوت نی یوم وساعة بکلمات لو دعوت علی من بین السماوات والرض

لاستجیب لك فأابشر یا

این عمرر شی اد خنہماروایہ کرت ہیں : یں نے سناکہجمعہ کے دن رسول اللہ صلی ار علیہ و لم نے لوگوں کے سساتھ عص رکی نمازپنڑ می جب وو دو رکنٹیں اواکر نے کے بعد یٹ و ای کفکتا آیا جس نے ا نکی نما زکا اداکمر نے یں رکیاوٹ ڈ ال ےک یکو ش کی توححضرت سعد بن الاو تقائ نے ا کتے کے لے بد دھاکی کا اڈ کی قحدرت سے ه رگیاء جب خی صلی اللد علیہ و سلم نماز پڑھاکر فارغ ہوئےذددیافت فرمایاہک “نے ا سک تےکوبد دعادگی؟ اس پر سب خاموش رہے او رکوئ بھی نہ بولا۔ تضور حم نے بی سوال دوپارہ دہ ایا اس پر جحخرت سعد بن الد قاع نے ع رخ لک یک میرےمال ماپ آپ پر تر ان ! ٹم نے اس کے لے بد دعای۔ بے اندبیشہ بد اک کی مکنا پکی نماز ٹیس ح ام نہ ہو۔ اس پر حضور مم نے پوچھاکہ تم ن ےکس دعاکی ؟حضرت سعد نے ع رخ کی ء اے اللد تق پاک ہے متیرے سو اکوکی عبات کے لا لی نی اے اہو جلالی کے .ایک اس کت کو ہلا کک اس سے پیل کہ مہ تیرے ہ یکی نماز مس خلل ڈانے_ حضور مم نے فرمایاء 'اے سعد! پونے اس دن اور اس و نکی ال یکھٹری میس ای ےکلمات سے دھاکی سے جس پر اگ ر2 آسانوں اورز ش۲ن کے در میا نکی کے لے دواکر جات قیول ہو سائی۔ اے سع دخمھیں خ و شحبری ہو

٭ػ مہ روایت عم اکب ملط رای بس ہے۔ اس کو امام تورالد ین ا صلی یق ناب شع الز داد یس کی لا ئۓ ہیں اود لس کے پارومی سککھت ہیں:_

”رواہ الطبراني وفیه یحی بن عبد الله البابلتي وھو ضعیف۔"”

ا لکو ظمرالی نے ردای تکیاادر ال اسنہ ٹل کن عبد الد ال بای ہیں جو کہ ضمجفرادیؤں-

٭× این حبان ان کے بارہ یس سک ہی کہ

"کان کثیر الخطا, "'" بی (روایات میس بکشزت غلطیا ںمرتے تے_

ای ردایت ٹل ایک راو ایوب بن نھیک لگ ہیں۔ الع کے ہار شی بھی امام نور ال ہن ا عمش بی راۓر کے ہی ںکہ بھی ضیف یں ”' مولانااور ان کے شپتین سے مر ایار ہواں سو الیء یف رداق کی روایی کر دداحادیث مل :یا نکر دوداتعات سے اگ ہآپ لوگو ںکو اشتعال دلایں کے اور دہ تقانو نکوپاتھ مل ل ےک رک یکاخو نک بی کے ت وکیا خون کے وبا یکا یک حصآپ پر خی ہ وگا؟

یمم اککیے للط رای جلد 12 ضف 443 ر تم الد یث 13610 ۔کتبۃ این تی القاع ر7

لئ الزوای وخ الفو اکر جلد0 2 صفحہ 391 عاشیہ۔ رت الید یٹ 17220۔ دار ا حاع 2015

کاب الجروحین من الححد شین۔جلددوم۔ صف 7,479 جم مب ر20 وور اص یی ملنشردلتوز بج ۔ المککۃ الع ری السعووی 2000 تع الزوامد وش الفواکر_ جلد 20 صن 391۔عاشیہ۔ر تم الریث17230۔دار ا ح2015

25

ےںر_ب_ے ے تی عے٤ےۂےےک‏ ے ےم _ےے ‏ ےے سے تً۔یءمءے ٠٤ےے‏ سے ےے ‏ ے ےک سک ے ے ے ‏ ےے ے ےے ے ے ‏ ١ے‏ ے٤‏ ے ے ے ے ے ے ص ے ‏ ءےءےے ےے ‏ ے ے ےت +٠‏ فک ری ےے ‏ ےےے ‏ ےےےے ے ۔ےعے ے ےےےے ے ‏ ے ‏ ے ‏ ے ۰ے سےےءےءےءےےےے ص ےے بے تب _ۂےبے ے ے ےت سے ےی ے٤‏ کم ےت ے ےم ءمء_ءےے ےکک ےک ےی ے ےتک ے_ےٌعےکت ‏ - ے یکصےۂم ء _ےےءۂ ے ‏ ے کلم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

گار ہو رداہت

علامہ خادم مین ر ضوکی صاح بک ایک تقر سے ایک اقتباس ال سکاب میس دیاگمیاہےء ا لکا عنودان ہے '' شج نبچیاں '' علامہ فرماتے ہیں ء

آپ مل کی ائی جان فرات ہیں ایک سفیدباول آیاادر ا نے تضورکوڈانب لیا پھر حضور تل نائب ہوگئ پیر دوہٹا کیا سھتی ہو ں کہ حضور مل ایک سفید اون کپڑے میں لیے ہوے ہیں رس رمشھی پھوناپھاہے او رگوہرشادا بکی تی نیسیاں حضورکی مشھی میں ہیں_ 88۰۷

اس جو الہ کے بعد علام ہکی ان نقار یر کے جا مین نے بد اررج النیوۃ از تچ عبد ان محرث دبلوگی صاحب کی تنا بکا جو الہ دا ای بی الفصائئص اکمبری| از امام جلال الد یی اع یکا جو ال بھی دیا۔ اس مہ علامہ سحدد شی ا ٹیر دایا تک وکیھاسے اور ہہ ردایات انہوں نے الو شی یں

اب اگ الناردایا تکا پچ اکیاجاۓ نوہ او یم نے حفرت این عباس کے واسلے سے ول اتل الفبو یش در کی ہیں۔ اور سا تق ھککھاہےء

فیہ نکار”''"

ان روایات یل شد ید ثارت ہے۔ مجن مگ روایات ہیں اور بے روایات کی ہیں

امام ال یو شیانے جب ہہ روایات ایق کناب الفصائص ٹیس تی ہکیں فو ایک ببت د لھپ تر ہبھی ساتق ھکیا۔ اس تج روسے اس دردایت اود اس تی دوس بی روا یا کی خلت یلت ہے۔فر مات یں:۔

'قلت۔ هٰذا الائر والٹران قبله فیھا نکارۃ شدیدة و لن اورد فی کتابی مٰذا اشد نکارۃ منھاء و لن تکن نمی لتطیب بایرادھا لکی تبعت الحافظ ابا

نعیم ‏ ڈلک۔"'”

شیرے تذدیک انس ایس اور اس ےہا تل دو آار میں شدید فکارت پائی حجائی ہے۔ مر کیا اا سکاب ٹیل اس سے زیادہ مگ رروابی تکوکی یں اگمر بی نے باول نو استت ا عکو تحری کیا صرف ابو ن| مکی اتا کی۔

مولا نا فی ردایا تکاح الہ ایک اور لہ دیے ہو ےلیھت ہیں٠‏

'(ان ردایا تکودر کرت ہو ے) اع محضرت( ا خاں رضابر دی ) نے آش ھکاہوں کے حوانے دید ہیں "2 صولانا اور الع کے شجشتین سے می رابارہواں سوالی مر روایات کے جو انے اگ کی ہہ اش یکتب سے بھی دیغہ انیس پوکیاا نکی 'ثیارت ' کم ہو عالی ے؟

أآواقیات سرت الٹی مق ازعلامہ نمادم ین رضوبی۔ صفہ 282 دعا جم لاہور پل الف اکس اککبری _ جلد 1 صفہ 82۔ دار اککتب الع هی پیروت-

وا تل النیو 2 الج زء الاول۔ “فی 126 النکت الا سلائی۔بروت-2004

پ ال اکس اکمبریٰ _ جلد 1ضفیہ 83۔ دار اککتب العلیی- بیروت۔-

واقعات سرت ا لی خكْ ازعلامہ ادم تین رضوی۔ صخہ 283 دعا بیکش لا ہور

26

ےسک ے ےت حے ص ‏ ے کے ے ‏ یم ےءےءے ےےے ے_ ےے ےے ے ےےے ے٤‏ ے ے ٤ے‏ ےت ے ےی تح ے ےک تب ے ےے ‏ ے ص ے ے ے ےت ے ے ےےے ےےے ے تب ےب کے سے سے ے ےے ے ےے ‏ ےہ ے کے ے ےس _ء۰٠ء٠٤نےےےے‏ ےے سے ہے ےےے کے ےےےےے ےےے کے کے ےےے ے کے کے کے ے ے ےےےےے بک ےے ےک ےے ےے ےک ے مھ ےک ےے ےے ے س٠ک_ے‏ کے تہ ص“۶ےےے ے٠تۂ_ےکےے ‏ ے ‏ کے کلم۶

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج ج2 ج2 ج2

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

ار ہل رایت

علامہنخادم تین ر ضوبی صاح بک ایک اود تقری کا ایک حصہ ا لکتاب می داگیاےء اس کا عن ان سے اگنتاغ کے عل پر تضورخ و کی خو شی '' علامہ فرماتے ہیں ء

کحب بن اشر فکومارنے کے لے حور حا نے پا صعابہ کیے۔۔۔ مور ملف نے (اپنے اصححاب سے ) فرمیاکعب بن انشرف ادعھرر بتاہے جو میرے خلاف پاتی ںک رتا ہے۔ود می راد تمنع سے_۔۔۔ تضمور لم نے فرمایاہ جا صا مییرے اد نکوما رک ہآ الڈ کیم کت اور عددتمہارے سات ے۔ "93

اس منقلد مہ کے سا تھ علامہ نے ادگ کیا ایک عدیٹ :یا نا٠‏

حَدَنَنَا عَلِی بن عَبْد ال حَدَنَنَا سُفْيَانء قَال عَمْرو :سَمِخْث جَابر بْنَ عَبْدِ الله رَخِي الله عَلُمَاء یَقُول: قَال رَسُولٔ اللّهِ صّلی اللَهٔ عَلَيْهِ وَسَلْمَ:" مَنْ ِگخب بن اللْتْرَفِ , فَإئَهُ قَذ دی الله وَرَسُولَهُ فَقَامَ مُحَمَد بْنْ مَسْلَمَةَ ا ویشول الہ الجۓ آن اللہ قال:' نَم" قال: فَأَاِنْ لی أُنْ اَقُولَ شَیَْاء قال:' قُل'' , فَأَتَاءُ مُحَمَد بْنْ مَسْلَعَةَء فَقَال: إِنْ مَذا الیل قد سَالتا صتة مَدَقَة قَة , وَإِلَهُ قَد عَتَاتًا وَإِّی قَذ أَتَبْنْكَ أَسْتَنلِقْكَ, قَال: وَأَیْضَّا وَالل لْحَمَلَئَهُ قال: إِنّا قد اتبَحْتَا فلا تُحجبُ أَنْ تَدَعَةُ جح حَقٌ تَنظر إِل تٌئٴء يَبیژ شَأَنه , وَقَد أََذْتًا أَنْ تُسْلِفَتًا وَِِمْقًا و وَسْقَینِ وحَدَنَنَا عَمْرو غَْرَ مَرَ فَلَمْ بِڈگز وَسْقًا و وَسْفَیِنء فَقْلتْ لَهُ فِیهِ وَسْقًا أَؤْ وَسْفَیِنَء فَقَال:" أُی فِیه وَسْقًا و وَسْقفَين' ' فَقَال: تَعَم تی قالو: أَی شيْءٍ ترِیدُ؟ قَال: ازمَتوني يسَاءَكُم, قَالُوا: كیْف نَرْمَثْكَ یِسَاءَتّا وَأَنْتَ أَجْمَل الْحَرَب؟ قَال: فَارْمَتُوني أَبنَاءكُم. فَالوا: گیِف تَرْمَثُك َبَاءَتَا فَيْسَبُ أَحَدُهُغ؟ فَیْقَال: زمِنَ بوَسْقِ أؤ وَسْقَیْن , مَذّا ار عَلَیْنَا وَلَكتّا تَرْمَْك اللَأمَةَء قَال سُفْیَان: یی السّلاعَ فَوَاعَدَه أَنْ َأِيَهُ فَجَاءَۂ لَیلّا وَمَعَة ابو تَابل وَهُوَ أَخُو كَعْبِ مِنّ الرَضَاعَة قَدَعَاهُم إِل الْحصْنِ فَأََلَ إِلَّهمء فَقَالَت له: امرآَئة اَيْنَ تَخْزْغ مَذِہِ السَاعَةء فَقَال: إِنَمَا مُو مُحَمَد بِنْ مَسْلَمَةً وَأخی آبو تَاؤِلة وَقَال: غَيْرُ عَرِو قَالَّٹٗ: أََسْمَغ صَوْتًا َأَنَهُ بَشْطز مِنهٔ الدُمْء قَال: إِنَمَا مُو اي مُحَمّدُ بْنْ مَسْلَمَةً وَرَضیعي أبُو تَایلَةً إِنّ الْكَرِيمَ لو ذُي إِل طَخْتَةِ بَِیْلِ لَقّجَابَء قَال: وَيْذْخِل مُحَمَّد بْْ مَسْلَمَةً مَعَهٌ رَجْلَيْنْء قِیل لِسُفْيَانَ: سَمَاهُم عَمُرّیء قَال: سَیٌ بَحْضَھُمُ 60 ھ۶ وقَالَ: غَْر عفرو أبُو عَبْس بنْ جَبْر وَالْحَارِٹ بُ ین اوس ھ830 ء قَالَ عَمُوّو: جَاءَ مَعَهُ برَجْلَْنء فَقَال: ٰذَا ما جَاءَ فَاني قَائِلٌ بِہ بشعرہ فَامْمُهُ فَإذَا رََبْتُمُونيی اکن مِنْ را فَدْوْنكُمْ فَاضرثوۂ وقال مَرَاً ثُمٌ أِ غ فَنزَْلَ إِلَُمْ مُتَوَضَخًا گا وَهُو یَنْفَحُ مِنٔه ریخ الطیب. فَقَال: مَا بَا وٹ گالقؤم ریخا اي اٌطب, ء فَقَال: : بر عَمرِوء قال: عِنْیي أَعْطر یِسَاءِ الْحَرَبِ وَأكمَل الْحَربِء قال عَمْروء فَقال: أَتلَانْ لی اَنْ اُشُمٌ رَأَسَك, قال: تَحَم فَشَمَهء ثُمٌ اُهَمٌ أُصحابه ثُمٌ قال: أَتَاَدَنْ لی٠‏ قال: نَحَمْ فَلَمَا اسْتَمگن مِنْهء قَال: دُوتكُمْ فَقَثلُوہ, ثُمٌ اَُؤا الئٍيٗ صَلی الله عَلَيْهِ وَسَلَمَ فَأَخْبَرُوه“”'"

رف ات کر ار ا ےا سآ حا ان ے ہو مرف کیوانڈاے کور رت تت کہ رسول اللد صلی ال علیہ و سم نے فرمایا کعب بن شر فکاکا مکون تھا مکرے گا؟ دہ اید اور اس کے رسو لک ببہت ستار ہاہے۔ “اس پر مر بین مسلمہ انصارگ ر شی ابر عنہکھٹرے ہو اور عرخ سکیا : ار سول اللہ ا کیا پ اجازت دیس گ ےکہ ٹیس اسے ش لک آئوں ؟ آپ نے فرمایا” ہاں جج ھکویہ ین ہے۔ “ان ہوں نے عرخ کیا چھر آپ نے اجازت عنابیت فرانی ںکمہ یل اس سے یھ بات سکہول آپ نے انی احجازت دے دگی۔ اب مج بن مسلمہ ر ضی الد حن ہککحب بن اشرف کے پا آئے اود اس سے براء رر أش) اشارہ آپ صلی الل علیہ و لم کی طرف تھا ( ہم سے صدقہ انار بتاہے اود اس نے میں خوک ار ہے۔ اس لیے میں تم سے تقر لیے آیاہووں۔ اس پ کعب نے کہاہ بھی آ کے و یناہ خداکی م١‏ پالکل کنا ا گے۔ مج بن مسلمہ ری الد عنہن ےکہاہ چھکمہ بھم نے بھی اب ا نک اتب عک کی ہے۔ اس لیے ج ب کک بی نعل جا ۓےکہ ال نکا

0

سی نے ھی صف287 ۰+08-: لاہور ہخاری کاب ایی بب ضا 7- ف ۔ر ا ریٹ4037

27

72 کے ےک ےضٴےع-ت ٥‏ 2٤ے‏ تم ےے ےک ے صض ض ی ت ٤ ٤ ٥‏ صض ‏ تی ص ے ےک ےےے ‏ ے ‏ ے ے ے ‏ ے ے ص ےےے ےک ےےےے ےے ہے > کے ے ے ےے بے ے م_ے٤ۃ‏ ے ٥‏ ۰ ے ےر ےءے ے ےے ‏ صےے > ے٤‏ ٤ے‏ ےک کے کب ح_ص ے ے ے ےب ےے ے ‏ ےے ‏ ہ_ ءےےےے ے ےک بک ے ے ے ‏ مےکےےےے ‏ ٤ےک‏ یم |یںےک ےک ےھ کے ےے ے ےت ےت تک

3 3 3 3

تاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبدا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی کر دداعادیث پر ایک علمی ماک

اخجا مکیاہو ا ہے انیس بھوڑنا بھی مناسب نھیں۔ تم سے اسیک وی یا رادکی نے بیا نک یاککہ (ددوس غخلہ رح لیے آیاہوں۔ اود ہم سے عمردبکن دینار نے ہہ عدی کا دفعہ با نکی لین ایک وس یاددو سن نے کاکوئی ذکر نمی لکیا۔ یس نے ان کہاکہ عدیث ٹیل ابیک یاددو سیکا ذکر ہے ؟ اضپوی ن ےکہاکہ می رابھی خیال ےکہ حدیث مل ایک یا دو یکا ذک ہآ ہے ۔کحب بن اشرف ن ےکہاءپال +میرے پاس جح گر وگ رکھ دو۔ انپوں نے پو پچھاءگر وی می ت مکیا ات ہو؟ اس ن ےکہاہ اپقی ور فو لکو رھ دو۔ انہوں نے کہاکہ تم عرب کے بت خو بصورت مرد ہو ؟م خہارے پاس اتی عور تی سکس طر مگ وکا رو کت ہیں۔ اسان ےکہاء پھر اپنے پچ لک گر وگ رکھ دد۔ اہول ن ےکہاء ہم پچ کو کس طر حگروئی رک سک ہیں ۔کل انیس ای پ گگامیاں دی جائی ںگ کہ ایک ادوس نے پر اسے در من رکھ دیاگیا تھاء مہ نو بڑکی بے خیرقی ہ وگی۔ البنہ ھم تہارے پا اپنے 'الاذدة گر وگ رک کی ہیں۔ مفیان ن ےکہاکہ مراداس سے جتھیار تے۔ بن مسلمہ ر ضھی الڈد عنہ نے اس سے دوبارہ س کا وعد کیا اود رات کے وفت اس کے ییہاں آے۔ ان کے ساتھ اون ملہ بھی موجو دے و ہکعب بین انشرف کے رضاگی بھاکی تھے پھر اس کے تللعہ کے پا چا اکر انہوں نے آواز دگی۔ دہ باہ ر نے لگا 2اا سکی یکین کہا کہ ال وفقت) ارات گے (کہاں باہر جار سے ہو؟ ان ےکہاء دوفو جر بن مسلمہ اود می ر ابعائی ابونا مہ ہے عمرو کے صو1) دوسرے داوگی نے پیا نک یاکنہ ا کی وی نے اس س ےکہاتماکہ مگ وب آوازالمی تی ہے یے اس سے خون تک دبا و ۔کحب نے جو اب دیاکہ میرے بھاگی بن مسلمہ اور می رے ر ضا گیا چھاگی الونا لہ ہیں شر نی کو اگر رات ٹیس تھی نیزہ با زیی کے لیے بلایاجاے وہ نل پڑت ہے راوکی نے بیا نک یاکہ جب مھ بن مسلمہ اندر گے فذَان کے ساتجھ دو آ دی اور تے۔ سفیان سے لہ چھاگ اک کیا عمرد جن دیار نے اع کے نام بھی لیے تھے ؟انہوں نے بتا اک نت کا نام لیا تھا عھرونے بیا نک کہ دہ آئے فو ان کے ساتھ دو دی اور تے اور عمرو ین دینار کے ا) راوگی 0 وس بن جب ر*حارث بن اوس اور عباد ین پش رنام بنائے تھے عمرونے بیا نکیاککر دہ اپ ساتحد د آدمیو لکولاۓ تھے اور انیس یہ بد بی تکی شیک ج بکح بآ تو یس اس کے) ص٢‏ ر کے (ہال ہاتھ میں نےوں ما اور سے سو جن ہللوں گا۔ جب یں اند ازہ ہو جا ۓےکہ یش نے ا لکاص ری ط رح اپتے قضہ یش نے لاس فذ یچ رتم تیار ہو جانااور ےت یکر ڈالنا۔ عمردنے ایک م رحہ جیا نکیاکہ ریس ا سںکاصرسومگھوںگا۔ آخ دعب چادد پیٹ ہوے باہ رآیا۔ اس کے جممم سے خوشبو بھو تی تھی_ رین مسلمہ ر شی الہ عنہر ےکہاء جع سے زیادو حر خوشیو می نے کبھی خی سوکگھی شی ۔ کے سو دوصرے دادگی لان بیا نکیا کحب ال پپ ول ەمیرے پا خر بک وہ عورت ہے جو ہروقت عط میں بی ر ہتی ہے اور صن ومال میں بھی ا سک یکوگی نظ نہیں عررونے پیا نک کہ بن مسلمہ ر شی ال عنہ نے اس س کہا کیا طارے ص رکوس وپکھ کی بے اجبازت ہے؟ اس ن ‏ ےکہاء سومگیھ سکتے ہو۔ راوگ نے بیا نک یاکہ بن مسلمہ ر ضی ال عنہ نے ا لککاص رس مھا اور ان کے بح ان کے ساخیوں نے بھی سومھا۔ پچ ران ہوں نے کہامکیادوبار وس وگتغ کی اجاذت ہے ؟ ال نے اس مرح ھی اجازت دے دیی۔ بچھرجب مجر بین مسلمہ ر ضصی الڈد عنہ نے اسے پوادکی ط رح اپنے تقابو می لک میا تو ان سا خھیو ںکو اشارہکیاکہ تار ہو جات چنانچہاغہوں نے اف یکر دیااودٹ یرم صلی ایند علیہ وسلم کی خمدمت میں حاض رہ ھک ا کی اطلاع دگی۔

اس حدبیث سے علامہ یہ شاب کرٹ ےک کو مشت کرد ہے ڈی یک ہکحب بن اشر فکا فی ا ک یکستاخیو ںکی وجہ سے ہوا۔ اور یہ مزاخو د1 حضرت مفا نے سزائی۔ اب جم

تار ںی کے مستعد اودا یکو د یکن ہیں اور جاۓ بی سک ہکیاوا قش یکحب بن انشر فکو ا سک یکسا خیو ںکی سزاکے طور یفن یکیاگیا؟

کحب بن اشرف:

کحب بن اشرف بن ونیم پودی قبیل سے تلق رکتا تھا۔ ال لک مال ممبددہتیا۔ الس نے کیا اہقی مال کے واسلے سے بیبددیت تو لکی۔ ا کا تفعیال بن نی کے سردار تھے یہ یہ کے تریب ایک قلعہ ٹیر بت تھااور اجنا ںکی تار تک رج تھا ت"

الاعلام۔ خیر الدین زرکگیء جلد ےہ مخ 235 در الم لملاجین۔ بروت-۔2002

28

٦ ٦ ٦ ٦ ٦ 3 3

یر کَّ ک کَ ک کَ کَ ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ کَ کَّ کَّ کَّ کَّ کَّ

کے ست ب7 کے تح م1 ےت ۰ ی ]۱ف ٤ے‏ ے ے ‏ بے ے ےت ککےےےے ےے ےک ے ‏ ے ‏ ےےک۔کےےے ‏ ےے ےے ےےے ‏ ے ے ‏ ےےے ے یءے ےےکک ‏ ےت کت ہ>ےےےے ے ے ے ‏ ص کے ےط ےے ے ‏ ہے ے عم ے ے ے ے ے ےے ‏ ے ے ےت کے کے ےےے ‏ کے ک ‏ ےب ےےے ےے ےکک ےک ے کے کک کے ےے ے ےےے >ےکعکےےےےےےکےًےصےکےےکےت٠بےە-م‏ کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی کر دداحادیث پر ایک علمی ماک

٭ ج بکحب بن اشر فکوبہ عم ہواکہ بدر ی لکو نکون سے زعما کہ فی ہوتے وا نے بھ الفاظط کے جن سے پوپ اند ازاہو تا ےکہب یس مض مکاخظرناک برقت منافُی تھا این حعشیام ا پت ہیں ء

"حین بلغه الخبر: أحق ھذا ؟ أترون حدا قتل هؤلاء الذین یسي ھذان الرجلان یعني زیدا وعبد الله بن رواحة فہؤلاء أشراف العرب وملوك الناس والله

لئن کان حد أصاب ھولاء القوم لبطن الٴأرض خیر من ظہرھا_'”

جب بہ مر ا سکک کیگی نواس ن ےکم کیا ہہ ہے ؟ کہ مم ما نے ان افرا دکوماراجن کے اسم یہ دوٹول مشفی ید اور عمبد اد جن دداحہ نے رہے ہیں۔ مہ لوگ عرب کے اشراف اورلوگوں کے سردار تھے۔ ند اکی فنء اکر جم نے ان لوگو ںکو سزادکی فو یناز نکازیرمیں حصدہ اس کے بلائی تصہ سے بیج ہے۔

٭ ام من وف الشائی اق مق راب سبل العدکیا والرشاد میس کھت ہی کہ٠‏

نگ بدرمیش مسلمافو ںکی ہناور سرداران قرلیش کے لی ہو جانے سے ا سکواچائی ری وصدمہ ۷دا چناخچہ بی لی کی تح زیت کے لیے ہگیااو رکفار ری کاجو بدر

یس مقتول ہوۓ تے ایماپر ددد مرش اک[ سکوس نکر ساضین کے مع می مات برپا ہو اتا تو اس مرش کو ہہ شف ق لی یکوسناس نکر خودبھی زار زار رو ماق اور

سای نک و بھی ر لا ا تھا کل میس ابو سفیانع سے ملا اور ا کو مسلمانوں سے جنگ بد رکابد لہ لیے پر ابھارابلہ ابوسفیا کول ےکر حرم میں آیا۔' مزب کھت ہیںء

”و ذکر ابن عائذ ان کعباً حالف قریشاً عند استار الکعبة علیٰ قتال ا مسلمین"

اج عائ با کرت ہی نک کعب نے اود فی یکلہ نے اکیٹھے ہ دک ہککعبہ کے شا فکوکیک کر مسلرائوں کے سائٹھ جن کرت ےکی شی ںکھایں کہ مسلماتوں سے پد رکا

ضرور افقام لیس کے پل رکہ سے بین لو فک ھآیا۔ "7ڈ

٭× مندرجہ بالابات مکنا د گن این ہشام نے ابق سرت می بھی تر کی ےپ"

٭ عماء اود علم حدبیث کے عطلبہ کے ہاں ایک مقولہ بہت مشپور ہے۔ اس کے مطا ا فقہ البخاری فی تراجصہ' لٹ جح فارگ یکا کچ جم وادراک اس میں ہے کہ اکر امام بخاری ا سک ئی ابد اب میس نف لکرتے ہیں تذسب مجکہوں پر اس حدیث کے امت لالات منلف ہوں گے۔ اور خیاعلم و عرفان حاصل ہ گا ش یکعب بن اشر فکی عدی کو امام ہار یکتاب البھعاد دالس یس باب انتک باعل اھ رب میس لاے ہیں۔ ا لککا یہ مع ہد اک اٛام دی کے فذدی ککحب مین اشرف "ھی کاف رر

٭× ایما یمام صسلم اا ںکواطاغضوت الیپدود قرار دپیے ہیں۔ کا ففل دی صردار ہو ےکی وج سے نیٹ بلہ یہ دغاباز معاہدووڑنے وانے اور اسٹیٹ آف رگ فلاف خار ب رو نکر مل دیرۓ آد

٭× ان حشام ایق سیر تءالسی رةالندیۃ یٹس ابن ان سے ردای تکرتے ہو ۓےکعب بن اش ر کا ایک اود حیطا یکاذک رکرتے ہے فرماتے ہیں ء

. الس ر7 النب یت لابین ہشام الجزءالثالت صخحہ 13 داراککتاب الھری۔ ہیر وت 1990

سیل العدیی دالر شاد جلد 6 صن 41:40۔التامر7_8وور

الس رةالنیی:۔ لابن عشام الجز القاات صفحہ 13 داراککتاب الم ی۔بروت1990

تج بخاریی کتاب ا لھعادوالسیر۔ باب الشنک ئل باعل ارب رت الیم یٹ 3032

جج سکم کتاب الھادوالسیر۔ ہاب تن یکحب بن الاشرف طاغحوت الٰیھود۔ رت لیر یٹ 4664

29

کے ست ب7 کے تح م1 ےت ۰ ی ]۱ف ٤ے‏ ے ے ‏ بے ے ےت ککےےےے ےے ےک ے ‏ ے ‏ ےےک۔کےےے ‏ ےے ےے ےےے ‏ ے ے ‏ ےےے ے یءے ےےکک ‏ ےت کت ہ>ےےےے ے ے ے ‏ ص کے ےط ےے ے ‏ ہے ے عم ے ے ے ے ے ےے ‏ ے ے ےت کے کے ےےے ‏ کے ک ‏ ےب ےےے ےے ےکک ےک ے کے کک کے ےے ے ےےے >ےکعکےےےےےےکےًےصےکےےکےت٠بےە-م‏ کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر بس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

کان کردم بن قیس حلیف کعب بن ال شرف و حی بن الاخطب ۔۔۔یاتوں رجالاً من الانصار کانوا یخالطونھم ینتصحون لھم من اصحاب رسول الله قِيَ فیقولون لھم ء لا تنفقوا اموالکم فانا نخثیٰ عليکم الفقر فی ذمابھا و لا تسارعوا فی النفقة فانکم لا تدرون 00پ ین یمکروم بن ٹیس ج کحب :ان اشر فکاعلیف تھا اور بی بین اخطلب وغی رہ کہودیی مل مان انصار کے پا ل آتے ان کے پاش ٹیھے اود ا نکو(منافقانہ )خی رخو اہی دکھاتۓ ہو سک کہ نمی ںکیاضرورت پپڑگی ہے جو تم اپنے ا مال لیوں بے در ار ہے ہو۔ ممیں ىہ اندیشر ےک یں خربت نہ آآنے۔زریادہ بڑھ پڑہ ھکر خر نکر وک وکلہ تم غیں جال ےک ہک لکوکیاہو! ین بی فتنہ پر داز لوگ اسلائی سوسا کس رن ڈا لے تھے ریاست کے امور یس رکیاوٹ پد اکرتے اور ایک دلی ہوگ گر منظ مکوشش سے اسلام اور ریاس تکو تاب پا ےکی ط مو مکو شی مجاری ر کے ہوۓے تے۔ ٭ علامہزہ فا ان لک یکارستانیوں کے پارے می ںسککھت ہیں_ 'کحب من مالک اپنے دالد سے دوای تکرتے ہی ںہ ہکحب من اتشرف ایک شاع تھاء وو رسول الہ مفظ کی بج ھک اکر ما تھا او رکفار لی شکو اس چو کے ذریجہ مسلمانوں پر نک مسل طاکرنے کے گے سا تھا۔ جب رسو لکریم مم مربینہ تشریف لائے ول وگ (ببپودی و مسلمان ) لے لے تے آپ نے ا نکی اصلا ںک یکو شش فرماکی.بیپود مسلرانو ںکو شی ملیف باج تھے ے1 حضرت مل نے ا نکوصب رکا عم دیہ۔۔'' مر بہت ابم با کھت ہیں٠‏ قد کان عامد النی قٌ قبل ان لا یعین عليه احداً فنقض کعب العهد_"'”' او ر1 تحضور ح اکیپد موابد :شاک کوک ی گنی مللیافون کے غلاف اون کے دنو ںکی مر شی سکر ےگا نگ ہوا ںک کپ نے هتاہ دی خلاف ودز یکا ادد معاپرہلوڑدیا_ ا یکتاب بس علامہ زر ای حدیث کے الن الفا ظطکو ' من لکشب بن ابش فک وکھؤے ہو ےکھت ہیںء "ای ینتدب لقتله ۔ فقد استعلن بعداوتنا و مجانا قد خرض ال قریش فجمعھم علیٰ قتالنا_'٭”' کون می رک اس پقا رکا جو اب در ےگگاکہ ال سک وف ککرے کی نہ ال لکحب بن انشرف نے جمارے خلاف دش یکااعلا نکر دیاہے اود اس کے ساتھ ھکر کے ری قکواکمایا ہے اور ہمارے خلاف چنگ کے لے م عکیاے۔ اب یہاں سال پیا تاے مہ یہاں جانا تضور خََؤ/ 2017 ام اد ہے "کیا اس سے مرادعام نون ے ؟ اس سوا یکاج اب ھی امام زر قالی نے اپقیاشر شی دیا۔ فرماتے یں ء ناف علق الاشکرتا پا سیوا عفن سان لہ ال یورم قفن بر

104,

10 ای رالزبویۃ: لا بین عشام الجزء انی صفحہ 201 دار اککتاب الع ی۔بیر وت 1990

2 خً

شر العطامرۃزر الیل مو اھب اللد دہ عجلد دصفحہ 369 دار اککتب العحلی- بروت-۔-1996 3

شرب العطامۃزر قا یع مو اھب اللد دہ جلد دصفحہ 370 دار اککتب الطلید بروت-1996 * شر الا رۃزر انیل مو اھب اللدحیدہ جلد دس 270 دار اکتب الطی و روت-1996

30

72 کے ست ب7 کے تح م1 ےت ۰ ی ]۱ف ٤ے‏ ے ے ‏ بے ے ےت ککےےےے ےے ےک ے ‏ ے ‏ ےےک۔کےےے ‏ ےے ےے ےےے ‏ ے ے ‏ ےےے ے یءے ےےکک ‏ ےت کت ہ>ےےےے ے ے ے ‏ ص کے ےط ےے ے ‏ ہے ے عم ے ے ے ے ے ےے ‏ ے ے ےت کے کے ےےے ‏ کے ک ‏ ےب ےےے ےے ےکک ےک ے کے کک کے ےے ے ےےے >ےکعکےےےےےےکےًےصےکےےکےت٠بےە-م‏ کے ے کم

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ک ک ک 2

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواج عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

یجن اس نے پچ ہار بچوکی اورک میں مش رکمین یجان بگیا۔ ان س بکوشعر روشاع کی کے ذریعہ ءپرر کے منقولو ںکو یا دکر و اکر و اکر ہمارے سا تھ جنگ وعدل کے لے ش عکیا۔ یہاں یہ بات یا رگن چا ےک ''ہجویہ شا عر کی 'کااٹ عرب معانشروییش بہت معفی ہو ما تھاء انل سے سماع یس سو کی تح رکیک پیداہوثی تھی جو یہ شاع رک یں نشدد انتلاذات اور فر کی روایات شال ہوقی میں جو مواشری تناظ کو تا رکرتی تھیں۔یہ سماٹی تشد داع ٹیس فما کو ہوادنڑیں شع ز بای یاتققیدری افعال کے ذر ہی اقوام و ات لک و آلیں یس لڑراناادر السا سذ بات ادد اشچائی مو اق فا پیش خیدہ می تھی عرب معانشرہ ٹس پسا او مات زبان مگوارسے زیادہکاری ضرب لگائی شی۔ ٭ مبمہاں ایک اور با تقائل کر ےک بن نی کے صسردا رحب بن انشر فکی رکا تک وجہ سے مسلمان مر ینہ یس اپنے آ پکو فو ظط یں علتے تھے ء اور ان سے ایک مسلسل خطر وکا شڈھار تھے وا نکوسبق سکھناضروری تھا ٭. ام ز د نے مگ ای کتاب اعلام ٹس مندررجہ بالا بات تح ری فراگی ے_ ۱۹۶ ٭ ام ادن سعد الطبقات مل کت یں:-_ "فاصبحت الیھود مذعورینء فجاءوا النی قَِ فقالوا: قتل سیدنا غیلةً۔ فذگرھم النی قِ صنیعه و ما کان یحض علیھم و یحرض قتالھم و یؤذیھمء ثم دعامم ال ان یکتبوا بینه و بیٹھم صلحاً احسبه۔'"”' جب یہو دکو اک واق ےکا علم ہو اود وخ فز دوہھوگے اور جب کی ہو گی ہد دکی ایک ججماعت ر صول الد صلی اللہ علیہ و سل مکی خدرمت میں حاض ہو گی اور ع رت شک اک جار اص ردار ال مر ماراگیا۔ آپ صلی انل علیہ و لم نے فرمااکہ وہ مسلمانو ںکوطر طر نکی ای ائیں پچ ا خھاادد ا وگو ںکوہمارے خلاف اگل پر بر اشین کر جا اود آمادہکر جا تھا۔ او رکوکی جو اب شردے کے۔ اس کے بععد آپ صلی اللرعلی و سلعمنے ان سے ایک ععجد نام ہگھھوا کہ یددییش ےک محمد کو گی اس مکی کت دککرےگا۔ اس سب شقن سے معلوم ہو اک ہکعب بن ار فکافضل صرف ا کا بد ذ ہا یاادہگوئ یکی وجہ سے ٹیٹس تہ ایی جو ام ںکرنے وانے اس ماحول میں او بھ یکئی ےم ران کو فی ہی ںک ایا ۔ اس کے فی کے مات میں تحقش مواہدوہ مش کین کے ساتعہم لک ربیشہ دادانیاںہ قلال پر ابھار نہ مسلمان عو رتو ںکیپاندامخی کے بادہ میس جج مہ شاعرئی اورریاست اسسلائی میں لوگو ںکور یامسقی ادارول کے خلا فک نا جیسے ج ام تے_ مولازااو ان کے شتین سے می اتی ہو اں سوالل مکی آپ اس تام شق کوک مو جو اب دے کے ہیں کی دکلہ آپ نے اس مقلدمہ میس ناصرف تتان ت نکیابکلہ آد اج بولاجھک تانج سے مبھی زیادوگ ران ہو ناہے۔ می رہویں رویت علامہ نظرت ال و بر صلی ر ضصی الد عثہ کی نل فی نکاداقعہ بیا نگمرتے ہو فرمات یں ء آپ(حضرت اا وججر الصد لق ر شی ال عنہ) جب د نیاسے تشریف نے جانے کے ت ذآپ نے فرمایاجب میر اجنازہ تیار ہو جا فو چا بای پر رھ کر تضور ضا کے سان رک دیناءاحجازت انگ ناکہ فلا م آیاے احازت ہو قذداشل ہج رہکرمیں۔.۔ پھراندر سے آوازآگی۔ اذ لا ایب الی لخب بکہ مو بکو حہوب ے لاوو_ "۱7 اس کے ساتھ ع رب ردایت کے الفا طکیے ہیںء

5 ال علام۔ خر اللرین زرکگی, جلد ۹ء صخ 235ھ دار الملم لکملا ین بروت-2002 ا طبقات این سعد۔ جلد دوم صحہ 31 الناش رککتبۃ: الا نگی۔ القاھرۃ۔ وا قوات سرت الْ یح ازعلامہ خادم مین رضوی۔ صفحہ 293 دع پلیا جنر لا ہور

31

کک ے ےےے بک ءنےےے٠ت‏ تی ت ‏ ےک ے ے ے ے ے ‏ کے ے>کےکے ےککےےےے_مءےءمےے ےک ے ے ت-تے ے ے ‏ > کے ے ے ے ےےے صیے ے ہے ررےءےءےے ‏ ےے ے ے ‏ ے ے ٤ے‏ ٤ے‏ صن-_۔ ۰‏ ے ‏ > ے ے >> بے ےک صےے ےے ےے ‏ ےے ے ےکے ےے ےےے ےےے کے > کے ےے ےے ےے ہے برک ےے ےےےےکےےےےک>کعککےےءےےےے ‏ ےک سے ےےکےےے ےت بے تککےک ےے ے ےے کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غاوم تم رضوی ازخواج عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

قد رژوي عن أہی بکر الصدیق رضی الله عنه ما حضرته الوفاۃ قال لھمء إذا مث وفرغتم من جہازي فاحملوني حق تقفوا بباب البیت الذي فیه قبر الني (ص) فقفوا بالباب وقولوا : السلام عليك یا رسول الله ھذا أبوبکر یستأذن ء فإن اذن لکم و فتح الباب وکان الباب مغلقاً بقفل فأدخلوني وادفنوني ء وإن لم یؤذن لکم فأخرجوني إلی البقیع وادفتوني بە ء ففعلوا فلما وقفوا بالیاب وقالوا مذا سقط القفل وانفتح الباب وسمع هاتف من داخل القبر : ادخلو الحبیب إِلی الحبیب فان الحبیب إلی الحبیب مشتاق_'٭””

یجن حضرت ال وجر صدرلقی ر شی الد عنہ کے بارے میس یہ بات نف لک گی ےک جب ا نکی وفا تکاوقت قری بآ یاتذ ا جہوں نے لوگوں سے فرمایا: جب میس مر چان اوت لوگ می ری می تکو تا کر دو تھے اٹھاکر ال گر کے دروازے پر ل ےک شجر جانااددب ےکہنا: یار سول الد ! آپ پر سلام ہو ! يہ ا دج اند رہ آن ےکی احازت اکنا ہے۔ اگ نی ارم تا ہیں اجازت دے دیں اور دروازہکھعول دم ء(راوگ کے ہیں دہ دردازہ بند ہوم تھا )نتم لوگ مھ اندر نے جانا اور جھے وہاں دض نکر دیناادراگمر وہ شی اجازت نہ یں تم مج نت ال جس نے اکر وہاں یھ دف نکر دینا۔ وگول نے الات کیا٤‏ جب ددددوازے پر شہرے او اتمہوں نے ىہ با کی فو ام سک شف لگ رمیا اور درواز ہل گیا۔ اورک کے اندر ےکی با تف شیا نے ہکہا: حبی بکو عجیب کے سا تج ماد وک کہ عجیب اپنے حجی بکامشتاقی ے- ٭ اگر فور دیکھا جائۓ ذ امام آجری(التولی360ھ) ىہ ردای کسی داسطہ سے بیان نی سک رہ بلک ہکھے رہے ہیں "زوی مجن یہ بات مق لک حجاقی ہے ا بح 0 00 رج ٭ این عساکر اس روای تکومگر تاروت ہیں_ ۱99 ٠‏ این مس اکر ک ےکی روای تکو مگ رسکی ےکا مطل بکیاہے۔علامہ امام فور لد بین ان ع۶ اق انی( انتولی 963ھ کر حمہ اللہ فریاتے ہیں: ''کٹیرا ما یقتصر ابن عساکر علی وصف الحدیث بالنکارۃ وھو عندہ موضبوع'"'" ایخ عس اکر اکر حدری ٹکو ارت( فی منگر) کے ساتجھ وص فکر نے کک محدردد رھت ہیں اور دەان کے نز ویک موضورع نی مو نعکھ ت+لّے۔ گو با ابع سار کے خزد یک یہ روایت موضو کا رلڑے ٭. علامہ خادم تسین ر ضوکی صاحب کے پیا نکر دوداقعات کے جا مان نے اس واقع ہکودر خر نے کے بعد جار جو مشن لان عساک رکا جو الہ ود انگ اس داقعہ کے پارہ این عساک رکیاراۓ رت ہیں دہ بیان غن لکی۔ خیر اس داست لی کاج اب جم دے دیے یں ء بن عساک کی رائے جضرت ام سیو می نے ای داقع کو درخ تر جن کپ راو قال ابن عساکر مذا حدیث منکر و ف اسنادہ ابو الطامر مومی بن چد بن عطاء المقدمی کذاب عن عبدالجلیل و مو مجھول۔ نی این عس اکر ےکہابہ ردایت مر ہے اور ا کی سند یس ابو الطاع رھ وی بن شم بن عطاء الم کی ء کڈ اب راوگ ہے اود اس سند ٹیش ایک راوگی کپد ا یل گول

1011,

گت ٠‏ امام حافظ تی نس وی اش اق خخروت کاب ' کاب الاضعفاء'' من کھت ہں_

"'یحدث عن الثقات بالبواطیل واللوضوعات*'

ایب ل1اجری(مترمم)ء جار دص 511_ مطبوع پر وگمرلیسوجں۔اردوپاژارءلاہور-2018 مر پرینہ ومشمی۔ لد 17 صمح 381 دار اککتب العلیی۔ بروت۔ لہاان

یہی" شید جرد صفمہ 277 دار اکب ا مکی بروت لبنان۔ 1981

5 لن کس اککبریٰ _ جلد و ضف 492 دار اککتب الطهید یروت-

تک ض ‏ ے1 ے صے ےےککےےے ےم ےے کے صس ‏ ے ‏ ے ے ‏ تم ۃےے ے ٣٠‏ ےے ‏ ےت بے ے ے ‏ ے ےے ےک ہہ ےکے ےےے ے ‏ ے ص ے ہے ےب صے ےےکےے ‏ ے ےے بے سکع کتکےکےکےے ےکءےمے ےب کے ے ‏ ے ے ےے ےت ے ے >‏ ےک سے ے ‏ صے مےےے ے ے ےے ےے ‏ ےک ےمےےں_ءےء ٤ے‏ کے ے ‏ ےے کے >ےےےکے کے کے٠‏ ےے .ےک ہے ےےے ے ےےےے> >> کے > ےے - مم کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

یی مہ راو ٹہ رواڈڑے پاظل او رکھب یگھٹراکی احادیث بیا نکیاکرتے تے_ ٭. اس رادیی کے بارہ شس علامہ این پان بیالن ففرماتے ہیں:- "یضع الحدیث علیٰ الثقات و یروی ما لا اصل لە عن الثبات۔ بی رای نہ روا کے نام پر احادیث وش حکیاکر جا تھا۔ اود ای روایا تگٹ جا ج نکاکوکی سر پی رنہ ہو تا ادرن کوک واقعالی شہارتء ٭ ام ابد اخ رازی ابو ااطاعر موی بن تم بن عطاء امنقل کی کے پارہ ٹیس فمرماتے ہیں٠‏ "کان یکذب و یاتی بالاباطل۔۔۔سئل ابو زرعة عن اہی طامر المقدمی فقال ۔۔۔کان یکذب'“'

1

ابوحاتمرازیی فرمات یں دہ مجھوٹ بولاتھا اور مجموٹی روایا تک تا تھا۔ ادزرعند سے اس کے بارہیٹ لو چھاگیات آپ نے ف مایا وہ مجھوٹ ہو لک تاتھا۔

لق روایت ادخلو الحبیب إلی الحبیب فان الحدیب لی الحبیب دشستاق بقول اج مد شی نکر ام ال جھوٹی اور موضوعے !

مولازا اور ان کے یتین سے می راچ دو اں سای کیا حا کرام بافف وص حضرت ا کر صدربتی ر شی اللد حن ہکی(جن کے پارہ یس تق رآ نکر مم تع نی ککرات رکتناہے ) عزت و کر یم موضو اور پال احادیث کے ذد یع ے ہ وگ ؟

پودہ ول رایت علامہ نمادم سجن رضھدکی صاحب کے ایک اور خطاب ٹیل سے ایک حصہ دی گیا ء جم س کا عحنو اع ے ''زامو سر سال تکا پجرہ'' اس کے تحت بیان ففرماتے یں ء علامہ فرماتے ہیں ء

"خوزومبنی ملق میں عبد ارڈربن عبد الل ان الین ےکہہ دیا ہم عزت وانے ذلیلو ںکو ہکال دبیں گے عبد اللہ نام ہے بی کا ھی جب مد اللہ ان ال مدینہ منودہ آیا و یٹ نے سے شی ںکہاکہاباگی مشش آپ سے بیزار ہولء نگواد مان سے پکالی ادد اپ کے صرپر رک دکی۔۔۔ یھ دنوں بعد پچ رحضرت عبد اولد پچ ر حضور مکی بارگاو سج گے ال یا رسول الله قٍَ ان بلغی انتک ترید قتل عبدالله بن أَبیٌ فیما بلک عنہ۔ عرخ ضکی حضور حم جھے خر گپگی ےک ہآپ میرے با پکو ماف نی ںکیااو رآپ میرے با پک وف یکر داناچاہے ہیں لی نکی اور کے ذر یج سے ء شھے خر کی ہے ء ىہ صحالانے با تکیا۔فان کنت فاعلاً فمرفی ان احمل الیک راسہ۔ ‏ ضورجب گی آپ کا چاہے خمزنی میرے با پک وف یکر وانےکان کسی او رکو عم نمی دینا۔ عم دیناہے ان احمل الیک امہ شی لگ و نکیا کر مس را اک ہآپ کے قد موں میں لے وگ یہ ے ناموص رسالت یہ ہے دسول الل کا عزت پہپپرہ۔آ نلوگ کی ہیں مولا نا تھوڑی سی رم پا تکرو_ ۱3۷

اب اس روایت کے الفا کو دیھیے ہیں اور ان یکنابوں سے دبکھتے ہیں جن نکا جو الہ مولاناکے اقتباسات کے جا مین نے دیا۔ او رکب کے علادہ سرت ان شا مکا جو ال ھی دیا ہے۔علامہ نے پیش ہکی رح اس دوایت کے صرف دوالفاظط لے جن سے ا نکا مقصمد پیدراہو ما نھھا۔ اگ و رکی روابیت کے الفاظ تیرےبتوظ ا نکا مقصر إارائہ ہوتا-

ان مغام! کیا ددابی تکو ال جیا نکمرتے ہیں٠‏

تاب ااضعناء جلد > صف 468 تزجمہ ‏ ر0 175 ۔ العطستۃ:الاو ٹیہ مطبوص دار این عپاسں۔ حر

تاب الجروعین مین الع شین_ جلد دوم۔ صفہ 250ء7 جم یر6 91۔دارا صبیی ملنشٹر وولتوز بی . لمککۃ الھر بن السحودیت-2000 بھ/ ار والتحریل جلد وص 113 ترجہ نمب ر715 دار مطبو وار الفکر بر وت نان

شا واقمات سرت ا لی مك ازعلامہ خادم تین رض وی صفحہ 3037301 دعا بیکش لا ہور

33

کم ےک ١ے‏ ےک ممتہم ےے ےے ےت ےب ےکےے ےک ےے ے ‏ ے ےی ے- ےت تل ےوءے ‏ ےے ٠تک‏ سے کے ے بے ۰ ےے ے ےت تک ص ے ے ے ۰ے ے ح ےت -ےےےےےے ےےے ےے کے ہے ے ‏ ےم ے ے ‏ ے ہے ے ےے ےب ےک ےت کے ٠1ےے‏ ےے ےت ص سے مم ےے ےک ےک ے کے ےکک ییءںءے٠‏ ےک کرےیےےمت کے ے کم

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یس رجا کالر یس یی کر دداعادیث پر ایک علمی ماک

"فقال یا رسول الله قَإٌٍ انّه بلغی اتک ترید قتل عبدالله بن ابی فیما بلغفک عنه فان کنٹ لا بدّ فاعلاً فمرنی بە ان احمل الیک راسهەء فوالله لقد علمت الخزرج ماکان لھا من رجل ابر بوالدہ مقی ٠‏ وانّی اخشیٰ ان تامر بە غیری فیقتلهء فلا تدعی تفسی انظر الٰ قاتل عبدالله بن ابی یمشی فی

التٌاس ءفاقتله فاقتل مؤمناً بکافرء فادخل النارء فقال رسول الله .'نترفق صحبته ما بقی معنا' "٭''

جحخرت عبدایڈ نے عمرت ک کش پنت لاہ ےک ہآپ(میرے باپ )بد اہ بن ا کش یک وانا ات ہیں۔ اگ آپ انیس غُ کر اناچاہت ہیں تو یھ عم دجیے میں فی سے درتاہوں۔ خداکی خم تام خزرج میس مجھ سے زیادہاپنے با پکاکوگی می فی :جا ہم یھ ڈر ےک آپ میرے علادہکسی او کو اس کے غ یکا عم نہ دے دییں۔ لین اگ ری دوسرے مسلمانع نے ا نکو ف٠‏ کیا نے پنے باپ کے تقات لکو میں دکچہ یں سکماء لاععالہ ا کو ف٠‏ یکر دوں گا اورایک مسلمان کے مارنے سے جم کا مستوجب ہو ڑگاء 1 نحضرت ما نے فربایاہ ج بکک ۴م میں موجودہیں ہم الن سے اپچھاب تک می گے۔

منررجہبالاروایت کے بش اور الفاط بھی لے ہیں ء یہ الفاظ امام این ایر ات مکتاب ''اسد الفاہ پی تیزاصحابت'' ٹیس لا ہیں۔

''فقال رسول الله .'بل تحسنْ صحبته ونترفق بە ما صحبنا ء ولا یتحدث النّاس ان محداً یقتل اصحابه ولکن بر اباک و احسن صحبته ینی رسول ول ام نے فرمایاء بحم انس کے ساتھ جب کک وہ جمارے ساتھ سے اچچھا لوک زی گن کو زی (فارکری رو دکیں کہ حھ( اف اپنے ساتھیوں کو تن یکر وا اہے۔ تم اپنے پاپ کے سات صن لو کفکرواور اس کے معاملہ یس می اخقیا کرو

ححخرت عبد اللہ بن عمبد الہ بن ال سے کل ححضرت عمرفاروقی رشی ال عنہ نے اس خو اب کا انہا رکیاہ وہ ابین سلو لکو ف یکر وم ہمگر 1 تحضرت تا نے ا نکو مع فا ”تی 7 اب دملگھی ںکہ عبد این الی بن سکول کے ساتھ پیارے آ تار حتۃ للا لی نکا سلو ککیاتھا:-

بخاریی ٹیل ےء

عن ابن عمر ان عبد الله بن اہي مما توفی جاء ابنه إلی الني قٌ , فقال:" یا رسول الله اعطني قمیصك اکفنه فیه وصل عليه واستغفر ل4ء فاعطاہ النبي قٍُ قمیصه , فقال: آذني اصلي عليه فاذنهء فلما اراد ان یصلي عليه جذبه عمر 2 , فقال: الیس الله نہاك ان تصلي علی ا منافقینء فقال: انا بین خیرتین. قال الله تعای: استغفر لہم او لا تستغفر لہم إن تستغفر لہم سبعین مرة فلن یغفر الله لہم سورة التوبة آیة 80 , فصلى عليه , فنزلت: ولا تصل علی احد منہم مات ابدا سورة التویة آیة 84."

عبد ال بن عمرر شی اود نما ا نکرتے ہیں٠‏ جب عبد اھ بن الی کی موت ہو کی ا سکابیٹا(عبد ایش) نیک رم صلی اللد علیہ وسلم کی خدمت میس آیااور ع رض کیک یارسول الل! والد سےکغن کے لیے آپ ابقی ٹیش عنایت فرمایے اور ان پر نماز پڑ حئ اور مخظر کی دعانکیئے۔ چناغچہن یک ریم صلی اللہ علیہ وسلم لق ال غاد مرج ت کہ سے عنای تکی اود فرمایاکہ شے بتانائس نمازجنازہیڑععوں گا۔ عبد الل نے اطلا ع گنو ائی جب آپ ص٥لی‏ اللدعلیہ وسلم نمازپڈھانے کے لیے آکے بڑ ھھ نذعمرر ضی اللہ عنہ نے آپے صلی اللہ علیہ وسلم کو چیہ سے ڑل اور رخ لک یاک کیا اللہ تی نے ا پکو منافقِ نکی نماز جنازہپڑ ھن سے مع خی ںکیاہے ؟ آپ صلی اللد علیہ وسلم نے فرمااکہ جے

11

شک رت این ہغام جلد دص 238 دار اکتاب العری۔ بر وت 1990 والا صا نی تییزااصحابۃ صفحہ 007 ,تج نمبر5296_ الکتیۃالحصریت بررت-2012 سالفا می تی ااصحابیۃ۔ جلد دصفہ ٦93‏ تزجمہ نم ر3037_ مطبوہ وار اکر بی روت- نان فٔ ادگ ماب الا قب ہاب ما ”تھی من دوک الیاعلیں رت الیم یٹ 3518

تک ض ‏ ے1 ے صے ےےککےےے ےم ےے کے صس ‏ ے ‏ ے ے ‏ تم ۃےے ے ٣٠‏ ےے ‏ ےت بے ے ے ‏ ے ےے ےک ہہ ےکے ےےے ے ‏ ے ص ے ہے ےب صے ےےکےے ‏ ے ےے بے سکع کتکےکےکےے ےکءےمے ےب کے ے ‏ ے ے ےے ےت ے ے >‏ ےک سے ے ‏ صے مےےے ے ے ےے ےے ‏ ےک ےمےےں_ءےء ٤ے‏ کے ے ‏ ےے کے >ےےےکے کے کے٠‏ ےے .ےک ہے ےےے ے ےےےے> >> کے > ےے - مم کے ے کم

تاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبدا مٹیم اج فاضل ع بی۔ ربص رجا کالر یس یی یکر دداعادیث پر ایک علمی ماک

اخقیار دیاگیاہے ججیہاکہ اد شادبادگی ہے فان کے لیے استتغفا کر یان کر اور اگ رفومتز مرح بھی استتغفا رکرے ف بھی اید انیس ہ رگز معاف نمی نکر ےگا چنا یہن یک ریم ضس علیہ و سلم نے نماز ڑھاگی۔ ال کے بع یی آیت اتزئی ”کسی بھی منا ق نکی موت پر ان لک نمازجنازہ جھیانہ پڑھان“۔ مولانا اور اع کے شجستین سے مرا پندرہواں سوالء جب 1 تحضرت ڑا نے عبرالر بن الین سکول کے بی ےکونربی اخخقیا رککرنے اور صن لو ککا ار شاد فرمایا تق آپ نے ردایت کے ائن الفائطکوکیوں چچھپایا؟ آپ نے فرمایا' لوک کے ہیں مولانا تھوڑی نرم بات گر نے رطاراخب ہیک رع لرم 0۳ا کا ھا آ پکا مل مور شا کے مارک اد شادکے بر خلا فکیوں ہے ٹکار سیا مفاد کے لے ہے یااپے اسلام مخالف نظ ری تشم کے لے وی روایت علامہخیادم ین ر ضوکی صاحب کے ایک اود خطاب یل سے ابیک حصہ دیاگاے :مج سکاعنواانع سے ''ادب رسول حا کابیان '' انس کے شت بیان ففرماتے ہیںء 'حضور مکی ابی ان فرباتی ہیں جب حضور مم ظاہری دی میس جلوہگر ہو نے آپ مھ نے بی عرت کا رت ہب کی اہدتی۔(فائیا رضوبہ جلد 30ص 32])۔'"

٠‏ ج جو الہ موڑا نان ای رضوبہ سے لیاہے۔جب نے مہ جو الہ فی رضوبہ سے پٹ ح نک یکو شن کی قوذ اس روابی تکو لا الہ دبا اسنادھاگی تھا۔ جلائش بسیار کے

اتد دی ردای گی ڈخرداحادیث میں کن یاعیف حالت میں میں مل می۔

پنر رہل رایت علامہ خادم تسین ر ضوگی صاحب کے ایک اود خطاب یل سے الیک حصہ دیاگاے :بج سک عنوان سے ''ادب رسول خلا کابیان '' اس کے تھت بیان فرماتے ہیں ء "امام زر قالی ف٠‏ فراتے ہیں اس وقت (بوقت ولارت) آپ تل انیو ںکو اس طل رح اٹھاۓ ہو سے تی ےک وک یگم بی وزار یکر نے والا اٹھااے_ 119۷ ال ردایتپ رم علامہ شی نعمانی صاح بکی شقن وتصرہ: پٹ یکرت ہیں۔ "من کی ہی ںکہ جب آپ پید اہو ذ ایک روشنی می جس سے قمام مشرقی و مخرب روشن ب گیا اود پ دوٹوں بات کی ککر ز جن پ گر پڑے (شایر مفصود یہنا ےکلہ آبپ لا وی ضگمرگئے۔ )پچ شھی سے مٹی اٹھائی (ابل میلاد اس سے یہ مطلب لیتے بی کہ آپ مم نے رو ین رق کر لیا) اور آسما نکی رف سراڑھایادیے حکایت این سعد بی متتعد وط رلیوں سے ن کور ےےگر ان ٹیل س ےکوی توبی نیو ای کے ققریب قریب ابو جم اور طر انی یں روائتی ہیں ء ا نکا بھی می مال ے_ ۱20۷

نا واقیات سرت انی خلا ازعلامہ مادم مین رضوبی۔ صفحہ 318 دعا بیشن لا ہور لی سرت ال حم رز شی فمانی_ لد دوم_ حصہ سوم_صفہ 1 ادارہاسلامیات ایب 2002

35

کے ست ب7 کے تح م1 ےت ۰ ی ]۱ف ٤ے‏ ے ے ‏ بے ے ےت ککےےےے ےے ےک ے ‏ ے ‏ ےےک۔کےےے ‏ ےے ےے ےےے ‏ ے ے ‏ ےےے ے یءے ےےکک ‏ ےت کت ہ>ےےےے ے ے ے ‏ ص کے ےط ےے ے ‏ ہے ے عم ے ے ے ے ے ےے ‏ ے ے ےت کے کے ےےے ‏ کے ک ‏ ےب ےےے ےے ےکک ےک ے کے کک کے ےے ے ےےے >ےکعکےےےےےےکےًےصےکےےکےت٠بےە-م‏ کے ے کم

کاب واقات سرت النی حا ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

ا امہ

چدککہ یہ روایات عام طور پر میلاد انی مگ کے جلسوں وغی رہ اور تحضرت مکی سرت کے بیان میس جقی(بریلوگی )علاء یا نکرتے ہیں اس ل ےکو شش یہک کی ےک

ڑے فیصدحوالہ جات بر یلوگ یککتب کر کے جید خنفنہ مین و مناخ بین علاء کے حو الہ جات دین سائیں۔ الیبائی بر یلو یککتتہ گر کے قیام سے پیل جو انل سنت کے جید علم کم ام ہیں ان

کب سے استتفادکیاجائے۔ چھکلہ جن صاح بک یکتاب میس موجو دروایاتہ پر یہ صلھ ما کمہ شی کیا جار پاہے وہ بر یلو یککتی نکر کے عالم ہیں اس لئ مہ عبھی بحت اس اعتاض

0,09 7

ضیف, مگر اور موضو روایات کے جو الہ سے این جو زی (التوفی 597 ہھ )ان کوک سات سوسال شنل ہی ابق را ےکاانہا رک دیاتھاء م اکر کے پادہ یل ےپ نے فرمایاء

''واعلم ان حدیث ا منکر یقشعر لە جلد طالب العلم _"” ۱ اور جان ا وکہ محگرروایت سے و عدبیث کے( جج ) طالب معل مکی ت2ج مکی ) جل دک ککاٹپ جائی سے ۔گر اوس کے ان منکرروایا تکوز بان کے کے اور سا می نکی وادواہ کیٹنے کے لے استعا لکیا جا تاہے۔ علا لی نقارکی نے ایی ےکور بے امصمل روایات بیال نمکمرنے والوں سے مت کیا ''قوم حملھم علیٰ الوضع قصد الاغراب والاعجاب و مو کثیر ‏ القصاص والوعاظ الذین لا نصیب لھم من العلم ولا حظ لھم من الفھم_"””

ای لوگ جج نکوو شع عدیٹ پ جیب د خیب داقعات بیا نکر نے نے اچھاراہ بہت سے قص ہگو اور واعنین حضرات ہیں جن نا عم و ہم ےکوگی حصہ نیں۔

خت تین و عیدء جو حریث میں نکر ےکوی پشت ڈالا جا تا ےک ٠‏

“َدَنَتَا سَعِید بِنْ عُبَیْدِ ء حَدَنََا عَ بن رَِیعَة ء قال: أَتیْثُ الّسچد وَالَغِيیرۃ ایب الكوفَةء فقال: فَقَال اکغِيرَة : سَمِخث رَشول الله صلی الله عَلَيْهِ

سعید بن عبیدر نے کہا: گئیں می بین ر بعد والچی نے بیا نکیا۔انوں نےکہا: جس مسود جس آیا اوس وقت (حضرت مخیرو) ین شعبہ رضی اللہ حنہکوفہ کے

امیر(گورز) تے: میرد ےکا: یں نے رسول الل نظ سے سنا آپ فریارے تے ”* مھ پر مجھوٹ بولنااس طرح نیش جییے میرے علاد ہنی عام آدئی پر گجھوٹ اولناےء

جس نے جان بوچ کر مھ پر مجھوٹ اولاوہ ہکم بیس اپناشکانہ بنانے_“

یر حعدیٹ من اتر حد یف سے مج سک وکئی صحابہ نے نفل فرمایا۔ حدریٹ کے علم میں فو طالب نل مکو پھ تک پھ وت ککر قدم رکھنا چا یے۔ ایک صحت مند ذ جن میس سوال پیا ہوا سے

کہ ان ضیف مگر اور وضتی روایا تکو ہیا نکر نک کیا مقصید ہو سلتا ہے ؟ اس کے متقاصد کے پارہ ٹل علماءے پببت بج ھککھا_ متا عیا‌ل میا دک وگر مازاہ ا وگو کو غط ردایات سٹا

کر ا نکی دادواہ سینا ای جلب ومنفحت ١د‏ یادکی جادد جلالءسیائی نوا وغیرہ-_

ان روا یا تکااسلا مکو ایک نا قائل جلانی قصان پاچاء یہ روایات شماعت اعد اکا باعث تی ء امام این جو ز کھت ہیں- "'فانه لم یقصد ال القدح فی الاسلام والاستھزاء بە۔

124,

تاب الم وضوعات۔ جلد اول سخ 103۔النال مھ صاحب اأنکتیہااسفیۃ پالم ین اٰتور5-۔1966

آآخار اگ رفوی_ صفیہ وار اککتب العلبیہ بردوت۔ لبنان-1984

صحیح مسلم, مقدمة۔ باب فی التَحْذِیرِ مِنّ الْگذِب عَلی رَسشول اللِّ صَلّى الله عَلَيْهِ وَسَلمَ ۔ رقم الحدیث 5 لاب ام وضوحوات_ جلد اول صفیہ 94د الناشر مر عبر ا سمل _ صاحب الیکتیۃ ا اسلقیپالر ین اھتورۃ-1966

13

36

72 کک بے صے۱‫بےےے٠ے‏ کے ے ےک ہے ہے ے ‏ ےم “ےےے ے ےت ے ے٤‏ مصۃۂے ‏ ت تےصض ضص صے ے ہے :کک ٢ب٢‏ ے ےے ے ‏ ے ے ےت ے ےب ے ‏ ے ںض6ضظ۱ئە6>ئ-ےے ےےہے ے کے ہے تکس کے ےےے تےےبےکر ءےے ے ے کے صےےےے ے_ےے ےت مببضببءےۂۂ_ےے کے ےک ے ےتک > ے ت ےے ص ہے ےے ےک ےےےےے ‏ ےے ے ہے ےے ےک مم ے٠ے‏ کے یے ص>ےے کے ے کم

72 ج2 ج2 72 72 ج2 ج ج ج ج ج ج ج ج ج گج ج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج گج ج ج گج ج ج ج گج گج ج ک کک ک

کاب واقات سرت النی ما ازحافظ غادم تم رضوی ازخواجہ عبرا مٹیم اج فاضل ع بی۔ر یص رجا کالر یس یی یکر دداحادیث پر ایک علمی ماک

یقیۃ ا (طر نکی روایات )کا متصد اسلام میس عیب پید اک نااور اتب زا ءکانشانہ بناناے۔

ایک اب حدیث عالم جک یکو ندلوئی اس ذیل می پک ہیں۔

"اٹل بدعت اور خی مقلد ین ری ڈھٹائی سے ضیف او رم نگزت روایا تک اشاعت پ رک ربستہ ہیں ٘ س کاخ اکہ ان حفرا تک یکناوں سے نظ رآ جا جاے اگر ا نک یکنابو ںکو موی نظر سے ریکھا جا ذ معلوم ہومگاکہ ان میس ضیف اور موضوع روایا ت کا الیک سحندہ ا آیاے۔ اود پھر بچی یس نی بکنہ کچ اعادی ٹکو نات دیدہ دلیری اور بے شش کی سے روکا جار ہاے کہ شف علیہ احعادیث مج نکی صحمت پر و رکی امم تکا اجماعے ا کو بھی نامقل عمل بنا ےکی سی نا مننکو رکی ار ہی ہے اور یف اور من کرت روایا تکوعوم ٹیس الام کے نام پر ہی ٹین کیا مار اے_ "125۷

بی روایات اکٹروپیشتر اف کب سے لی جاتیں ہیں ج نکا عق رآ کر ہم مقلد مہ می لک ہے ہیں ان کے علادہ ملا مین اللدبن اھ روئ کی معار نج النبوۃ(فا ری ) اور مولوی عپر ان محرث دی یکی مد ار النوۃیں جن سے مہ ردایا تل حائی ڈیں۔ اس بارہ شش مولاناالو الام آزاد 2 ہکرت ہیں

' شاید بہت سے لوگو ںکوہہ معلوم نمی سک ہآ اردوزبان میں جس قرر مولو و کھے گے ہیں اور را یں وو سب کے سب بے واسطہ یا اسیلہ ای( لا مین الیم بن عردں) کی کتابوں معاررج الفہوۃء تفر سورویوسف بہ نف اکارء قصہ حظرت موک علیہ السلام موسوم ہہ اتماز موس وک دخ رجا سے ماخ ذ ہیں۔ اس میس شیک نی ںکہ ا ن کابوں کے لین جے خبائت دیپ اور تقائل دیریں تلأوہ صوفانہ وعار فانہ لطا نف د نات داحادیث جو اقو ال و مر ویات صوفیاء سے لے گے ہیں یاخود اس( ا تین اللد بن عمردگی نے پبید ا کے ہیں لین ان لطا کن فک وکیا یی کہ اصل موضوع بی س رتا مھ خر افات ہے یہ لوگ ان ٹس سے اکر چیزوں کے خودموحدنہ تے بلہ ابیقی جماعت کے شی رو اف را کے شع ,لیان ذارسی می ںکل ہکر او رکب میااس دوعن کو شائ جک کے ان لوگوں نے قمام موضومات و خر افا کو ایر ان دجن ٹیل یلا دیا اور چک عوام بالٹئ اس مز کے خواہاں ہیں, اق کسی و قت کے ا نکوقبول حا م بھی حا صل ہوگیا_ 26۷

اکم یہ اخترئض ہب کہ مندرر ج پالاح الہ لیک ائل حدیث عا مکاہے فو ہم ائل سنت داجماعت کے پیلد یککتیہ جک کے پا میک حوالہ پی کرتے ہیں شایدا نک یکس وٹی ہی استعال نک حالف ایی ما کرد ددابات زاین ارد ران

ات خاں رضابر یلو یکھعت ہیں

'موضوعیت لیوں ثابت ہوتی ہ ےکہ اس روا ت کا مشمون(1) ق رن عظیم (2) سنت, متواترہ(2) سای تلتی قطعیت الرول(۸) پ تقل صر(د) پا صن ج(6)یا جار ناشن کے ایا مخالف ب کہ اخال تاوبیل تق نہر ہے۔(7) پاصعٰ شفع وش ہوں ج نکاصدور تضور یر نور حصلوات او علیہ سے منتقول نہ ہو۔ جیسے معاذالرکسی فراد الم احیٹ ماف یا مدع ہاطل ماذم تق پر مشقل ہون۔(8) یاالیک جماعت ج سک عددحد فا رکو پچ اور ان یل اخا لکذب مانیک دوسر ےکی تقلیدکانہ رہ اس سےکٴذب د بطلان پر اہی مسشراا ا دے_(9) اخ کسی اہیے ام رکی ہوک اگر واقع ہو مان ا سکی نل مشہور و تی ہو چائیءحگر اس روایت کے سواا ںای پت شیل-(10) یا می تق رخ لی مدحت اور الس پر وعدووبشارت پا صصجر ام مکی مز مت اود اس پر و عید و تب ری یش الیے لے چوڑے مرالے ہوں ج نی ںکلام مج ز نظام نبوت سے مشا بہت نہ رے۔بہ دیس صورتیں وص رج ظہورووضوں وش کی ہیں_ ۱27۷

اگ ہرہز الا الج ان کے اع ححفرمتدئے با نگیں پل ال نکر دوردایا تگوا نیز شی بی دک لین اع رواپان یف یکل جیا ۓےگی-

ا ضون اور موضو روایات از مر کنھاگوندلوی۔ صخہ 19۔ ککتبہ اسلامیہ۔ ارد ہازار۔ لاہور۔ شع انی سن اشاعت "م2006 ٭ وز٤دت‏ خبدی مم از مولا ناب الکلام آزاد۔ صفحہ 81 ۔کتبہ جمال۔ نما رکیٹ۔اددوپاڑار- لاہور-2012

ای رضوبہ_ جلد ہ مخ 462462 مطبوع رضافاونڈ شی جامعہ نظامے رضوے-اند رون لوپار دروازہ-(اہور

37

پچحر ججحدجچژوددد3چکڈ3کڈ,تّث6دژد ا ا ‏ ولاادا ا ا داد و رر جدررہدردہردجرر ہچ رج ہرشچہج ‏ چجتشخ یج

کر رر رر کت ۰

٭

2 ںاد

یگ

کک 7

یکو

0

اک ل ن٠ا‏ سے ت کہ ہکھولا جات ےکہ وجہ کخروزنث الاب

کاب واقعات

ٹیس یی کر دواعاد لْ

کی کیک

ک

کےءے

یرتا یب

نر

ایی 7 5 ٴ: قٰ 5 نی 5

ہز

2 7 1

7

کت

علھی م اکر

کے عافئظ غلام مین رصو 7

تر

تک

ےت ٦‏ ن۱١‏ 4 ب

ک

7

رر

رز

رر بین اود انشرف تین

5 تفلیق کا نات , ام امھ رین نا

و سے 0 200 ص2 ڑ :-

ک 0

سے متتعل ق کور

تر رٹ

یز

ف 31

قم الین ءسی ناو مولانا حضرت بعد ازخداہزرگ گی قد قر

ےے ‏ کے 2 :سس

رر 31

ف

7

کے کے . میں 7 [ ال2 سا

کک

رر

از ۶7 اچ گپر١‏

رر

کت

اور وش اعاد کی خظفمت ور

ےت ت

بیث دروای| : ات

کے ے ‏ ص ے ‏ ے ےتک اصر,ناضل ۵۶۔ رض رچاکار تک 7

کو اكٴاے سردیاردایا تک

ت :یا

ک

۰ رہے

رر رٹ

رت